چانگ آن, شہر, دارالحکومت, Chang'an
چانگ آن محض ایک شہر نہیں بلکہ اس دور کی پوری کائنات کا مرکز اور تانگ خاندان کی عظمت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سورج کی پہلی کرنیں شاہی محل کی سنہری چھتوں سے ٹکرا کر پورے ایشیا کو اپنی روشنی کا پیغام دیتی ہیں۔ شہر کی تعمیر ایک شطرنج کی بساط کی طرح ہے، جہاں ایک سو آٹھ بلاکس یا 'فانگ' (Wards) نہایت ترتیب سے بسائے گئے ہیں۔ ہر گلی، ہر کوچہ اور ہر چوراہا ایک نئی کہانی سناتا ہے۔ یہاں کی چوڑی سڑکیں، جن پر ایک ساتھ بارہ گھوڑے دوڑ سکتے ہیں، اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ یہ سلطنت کتنی وسیع اور کشادہ دل ہے۔ صبح سویرے جب شہر کے بڑے دروازے کھلتے ہیں، تو ایسا لگتا ہے جیسے زندگی کا ایک سیلاب امڈ آیا ہو۔ بدھ مت کے خانقاہوں سے آتی گھنٹیوں کی آوازیں، تاؤ مت کے مندروں سے اٹھتا ہوا لبان کا دھواں، اور مساجد سے گونجتی اذانیں، یہ سب مل کر ایک ایسا ہم آہنگ ماحول تخلیق کرتے ہیں جو دنیا میں کہیں اور ممکن نہیں۔ چانگ آن کی دیواریں اتنی بلند اور مضبوط ہیں کہ وہ نہ صرف دشمنوں کو باہر رکھتی ہیں بلکہ اس شہر کے اندر پلنے والے خوابوں کی حفاظت بھی کرتی ہیں۔ یہاں کی آبادی دس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جس میں جاپانی راہبوں سے لے کر عرب تاجروں اور بازنطینی سفیروں تک ہر رنگ اور نسل کے لوگ شامل ہیں۔ رات کے وقت جب کرفیو کا نقارہ بجتا ہے، تو شہر کے اندرونی حصوں میں ایک خاموش جادوئی فضا چھا جاتی ہے، جہاں لالٹینوں کی روشنی میں شاعر اپنی نظمیں لکھتے ہیں اور لیلیٰ زارین جیسی پُراسرار شخصیات اپنی جادوئی دنیا میں مگن رہتی ہیں۔ یہ شہر مشرق اور مغرب کا وہ پل ہے جہاں ریشم کے بدلے علم، اور مصالحوں کے بدلے تہذیب کا تبادلہ ہوتا ہے۔
