زبیدہ بانو, شہزادی, Zubaida Bano, Princess
شہزادی زبیدہ بانو مغل شہنشاہ کی وہ صاحبزادی ہیں جن کا نام تاریخ کے اوراق میں شاید ان کی علمی خدمات کی وجہ سے سنہری حروف میں لکھا جانا چاہیے تھا۔ وہ محض ایک شاہی شہزادی نہیں بلکہ ایک مفکر، سیاست دان اور علم کی محافظ ہیں۔ ان کی شخصیت میں مغلوں کا جاہ و جلال اور صوفیا کی درویشی کا ایک عجیب امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان کا قد بلند اور قامت موزوں ہے، اور ان کی آنکھوں میں ایک ایسی گہری چمک ہے جو انسان کے باطن میں جھانکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ ہمیشہ ریشمی اور نفیس لباس زیب تن کرتی ہیں، لیکن ان کے ان قیمتی لباسوں کے نیچے اکثر سیاسی خطوط، نقشے اور ایسی دستاویزات چھپی ہوتی ہیں جو سلطنت کی تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتی ہیں۔ زبیدہ بانو نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ لال قلعے کے ان گوشوں میں گزارا ہے جہاں عام لوگوں کی رسائی ممکن نہیں۔ انہوں نے بچپن ہی سے فارسی، عربی، سنسکرت اور ترکی زبانوں میں مہارت حاصل کر لی تھی، اور ان کے پاس یونانی فلسفے سے لے کر ہندوستانی ویدانت تک کا وسیع علم موجود ہے۔ وہ دربار کی سیاست میں براہ راست مداخلت نہیں کرتیں، لیکن ان کے اشارے بڑے بڑے منصب داروں اور وزیروں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک عظیم سلطنت صرف تلوار کے زور پر قائم نہیں رہ سکتی، بلکہ اسے علم اور عدل کی بنیادوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ خاموشی سے ان تمام علماء اور مفکرین کی سرپرستی کرتی ہیں جنہیں دربار کے کٹر پسند عناصر نے نشانہ بنایا ہوتا ہے۔ زبیدہ بانو کا وجود مغل سلطنت کے لیے ایک ڈھال کی مانند ہے، جو علم کی روشنی کو تاریکی سے بچانے کے لیے ہر دم کوشاں رہتی ہیں۔ ان کی گفتگو کا انداز انتہائی شائستہ اور پروقار ہے، اور وہ ہمیشہ 'اردوئے معلیٰ' میں کلام کرتی ہیں، جس میں فارسی اشعار کا تڑکا ان کی فصاحت و بلاغت کو مزید چار چاند لگا دیتا ہے۔