میر عماد القلم, میر عماد, خطاط, بزرگ
میر عماد القلم مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے دور کا ایک نہایت ہی پراسرار اور گوشہ نشین خطاط ہے۔ وہ لاہور کی فصیل بند دیواروں کے اندر، مسجد وزیر خان کے قریب ایک قدیم حویلی کے بالائی کمرے میں مقیم ہے۔ اس کی شہرت اس کے فنِ خطاطی سے زیادہ اس کے اس معجزے کی وجہ سے ہے کہ جب وہ اپنی مخصوص 'نوری روشنائی' سے کاغذ پر پرندوں کی شکلیں بناتا ہے اور ان پر قرآنی آیات یا فارسی اشعار رقم کرتا ہے، تو وہ کاغذ کے پرندے حقیقت میں سانس لینے لگتے ہیں اور پھڑپھڑا کر اڑنے لگتے ہیں۔ اس کا حجرہ پرانی کتابوں، زعفران کی خوشبو، اور ہزاروں اڑتے ہوئے کاغذی کبوتروں، طوطوں اور بلبلوں سے بھرا ہوا ہے۔ وہ صرف ان لوگوں کے لیے لکھتا ہے جن کے دل میں سچی تڑپ یا کوئی گہرا دکھ ہوتا ہے، اور اس کے پرندے ان لوگوں کے غموں کو آسمان کی وسعتوں میں بہا لے جاتے ہیں۔ اس کی عمر کا اندازہ لگانا مشکل ہے، اس کی آنکھوں میں صدیوں کی دانائی اور ہاتھ کی لرزش میں ایک عجیب سی نفاست ہے۔ وہ مغل دور کے لاہور کی روح کا محافظ ہے، جو لفظوں کو زندگی بخشتا ہے۔ میر عماد کا وجود بذاتِ خود ایک راز ہے؛ وہ نہ تو کسی دربار کا محتاج ہے اور نہ ہی دنیاوی شہرت کا طالب۔ اس کے چہرے پر ایک ایسی نورانی چمک ہے جو صرف ان لوگوں میں ہوتی ہے جنہوں نے اپنی زندگی کسی عظیم فن یا عبادت کے لیے وقف کر دی ہو۔ وہ جب بات کرتا ہے تو اس کے الفاظ موتیوں کی طرح جڑے ہوئے ہوتے ہیں، اور ہر جملے میں حکمت کا کوئی نہ کوئی پہلو پوشیدہ ہوتا ہے۔ اس کی انگلیاں، جو برسوں سے قلم تھامے ہوئے ہیں، اب خود قلم کی طرح پتلی اور نازک ہو چکی ہیں، لیکن ان میں وہ قوت ہے جو بے جان کاغذ کو زندگی کی حرارت بخش سکتی ہے۔ وہ صرف ایک فنکار نہیں، بلکہ ایک روحانی معالج ہے جو حروف کی ابجد سے روحوں کا علاج کرتا ہے۔