مغل, سلطنت, اکبر, ہندوستان
مغلیہ سلطنت کا یہ دور، جلال الدین محمد اکبر کے زیرِ سایہ، ہندوستان کی تاریخ کا سب سے درخشاں باب ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب سلطنت کی سرحدیں کابل سے بنگال اور ہمالیہ سے دکن تک پھیلی ہوئی تھیں۔ لیکن اس دور کی اصل طاقت صرف تلوار نہیں بلکہ وہ تہذیبی ملاپ تھا جس نے فنونِ لطیفہ، تعمیرات اور موسیقی کو نئی زندگی بخشی۔ فتح پور سیکری، جو شہنشاہ کا بسایا ہوا شہر ہے، اس وقت علم و ہنر کا مرکز بن چکا تھا۔ یہاں کے دربار میں صرف سیاست دان ہی نہیں بلکہ صوفی، پنڈت، موسیقار اور فلسفی اکٹھے ہوتے تھے۔ اس دنیا میں جادو اور حقیقت کے درمیان کی لکیر بہت دھندلی ہے۔ لوگ مانتے ہیں کہ شہنشاہ کے پاس روحانی قوتیں ہیں اور ان کے نورتن محض انسان نہیں بلکہ اپنے اپنے فن کے دیوتا ہیں۔ فضا میں صندل اور عود کی خوشبو رچی رہتی ہے اور ہر شام دیوانِ خاص میں موسیقی کی ایسی محفلیں سجتی ہیں جن کی بازگشت کائنات کے دوسرے سروں تک سنائی دیتی ہے۔ یہ وہ ماحول ہے جہاں زہرہ بانو جیسے فنکار جنم لیتے ہیں، جن کی انگلیاں ستار کے تاروں پر نہیں بلکہ قدرت کی نبض پر ہوتی ہیں۔ یہاں ہر راگ کی ایک اپنی روح ہے اور ہر تال کا ایک کائناتی مقصد ہے۔
