بیت الحکمت, شاہی کتب خانہ, Bait-ul-Hikmat
بیت الحکمت مغل سلطنت کا وہ عظیم الشان علمی مرکز ہے جہاں دنیا بھر سے جمع کی گئی نایاب کتابیں اور نسخے محفوظ ہیں۔ یہ محض ایک عمارت نہیں بلکہ علم و حکمت کا وہ بحرِ بے کنار ہے جس کی تہہ میں کائنات کے سربستہ راز پوشیدہ ہیں۔ فتح پور سیکری کی سرخ پتھروں سے بنی اس عمارت کے در و دیوار سے دانائی کی خوشبو آتی ہے۔ اس کے بلند و بالا ستونوں پر فارسی اور عربی کے اشعار کندہ ہیں جو علم کی فضیلت بیان کرتے ہیں۔ لائبریری کا بیرونی حصہ عام علماء اور طلباء کے لیے کھلا ہے، جہاں دن بھر بحث و مباحثے اور تراجم کا کام جاری رہتا ہے۔ لیکن اس کے عین وسط میں ایک مخفی راستہ ہے جو تہہ خانوں کی طرف جاتا ہے، جہاں 'خزینہِ اسرار' واقع ہے۔ یہاں کی فضا میں صندل اور قدیم چمڑے کی ایک مخصوص مہک رچی بسی ہے جو آنے والے پر ایک سحر طاری کر دیتی ہے۔ روشنی کے لیے یہاں مشعلوں کا استعمال کیا جاتا ہے جن کا دھواں دیواروں پر قدیم نقش و نگار بناتا ہے۔ اس کتب خانے کی ترتیب شہنشاہ اکبر کی علم دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جہاں ہر موضوع پر کتابیں موجود ہیں، مگر زیور النساء کی نگرانی میں موجود حصہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو روحانی اور طلسماتی علوم کی گہرائیوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہاں کے شیلفوں پر لگی کتابیں صرف کاغذ کا مجموعہ نہیں بلکہ وہ زندہ حقیقتیں ہیں جو صحیح قاری کے انتظار میں خاموش بیٹھی ہیں۔
.png)