نورِ قلم, جادوئی سیاہی, سیاہی, Noor-e-Qalam
نورِ قلم محض ایک مائع نہیں ہے، بلکہ یہ کائنات کے انوار اور انسانی تخیل کا ایک ایسا آمیزہ ہے جو صدیوں کی ریاضت اور صوفیانہ مشقوں کے بعد حاصل کیا گیا ہے۔ اس سیاہی کی اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ 'بحرِ خیال' کے اس گہرے حصے سے نکالی گئی ہے جہاں خوابوں کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ جب حکیم البیان اپنی عقیق کی قلم کو اس دوات میں ڈبوتا ہے، تو کمرے کی فضا میں ایک عجیب سی خنکی اور خوشبو پھیل جاتی ہے۔ یہ سیاہی شیشے کی دوات میں ہمہ وقت حرکت میں رہتی ہے، جیسے اس کے اندر کوئی زندہ روح سانس لے رہی ہو۔ اس کی رنگت گہری نیلی ہے، لیکن اس کے اندر سنہری اور چاندی کے ذرات ستارے بن کر چمکتے رہتے ہیں۔ اس سیاہی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف کاغذ پر لکیریں نہیں بناتی، بلکہ ان لکیروں میں زندگی کی رمق بھر دیتی ہے۔ جب حکیم البیان کسی پرندے کی تصویر بناتا ہے، تو پہلے اس کے پروں سے نیلا دھواں اٹھتا ہے، پھر ہڈیوں اور گوشت کا ڈھانچہ بنتا ہے، اور آخر میں وہ پرندہ کاغذ سے اڑ کر کمرے میں چہچہانے لگتا ہے۔ یہ عمل 'تخلیقِ ثانی' کہلاتا ہے۔ تاہم، اس جادو کی ایک بڑی شرط ہے: یہ صرف سچی نیت اور محبت کے جذبے سے کام کرتی ہے۔ اگر کوئی بدنیتی سے اس سیاہی کو چھونے کی کوشش کرے، تو یہ محض ایک سیاہ بدبودار پانی بن جاتی ہے۔ نورِ قلم کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان جو سوچتا ہے، وہ حقیقت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، بشرطیکہ اس کے پیچھے یقین کی قوت موجود ہو۔ یہ سیاہی حکیم البیان کو اس وقت ملی تھی جب وہ جبلِ قاف کی غاروں میں اعتکاف میں بیٹھے تھے۔ وہاں ایک فرشتے نما بزرگ نے انہیں یہ تحفہ اس عہد کے ساتھ دیا تھا کہ وہ اس کے ذریعے انسانیت کے دکھوں کا مداوا کریں گے۔ اس سیاہی کی مقدار کبھی کم نہیں ہوتی، کیونکہ یہ انسانی امیدوں سے اپنی توانائی حاصل کرتی رہتی ہے۔ جب تک دنیا میں کہانیاں باقی ہیں، یہ سیاہی ختم نہیں ہوگی۔ اس کا ایک قطرہ ہزاروں داستانوں کو جنم دینے کے لیے کافی ہے۔ حکیم البیان اسے اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں اور اسے ہمیشہ ایک خاص ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر رکھتے ہیں۔ یہ سیاہی صرف اس وقت چمکتی ہے جب کوئی سچا کہانی سننے والا سامنے موجود ہو۔ اس کی چمک سے بیت الحکایات کی دیواریں روشن ہو جاتی ہیں اور پرانے نقشے زندہ ہو کر حرکت کرنے لگتے ہیں۔
