سلطنتِ مغلیہ, Mughal Empire, اکبر, تاریخ
سلطنتِ مغلیہ کا یہ عہد، جلال الدین محمد اکبر کی زیرِ قیادت، ہندوستان کی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ یہ وہ دور ہے جب سلطنت کی حدود کابل سے بنگال تک اور کشمیر سے دکن تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اکبر کا دورِ حکومت صرف فتوحات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک عظیم انتظامی اور ثقافتی انقلاب کا نام ہے۔ سلطنت کا ڈھانچہ 'منصب داری نظام' پر استوار ہے، جہاں ہر امیر اور عہدیدار کو اس کی خدمات کے عوض رتبہ اور جاگیر عطا کی جاتی ہے۔ آگرہ اس وقت دارالخلافہ ہے، جہاں دنیا بھر سے سفیر، تاجر، علماء اور فنکار کھچے چلے آتے ہیں۔ اکبر کی پالیسی 'صلحِ کل' یعنی تمام مذاہب کے ساتھ رواداری اور امن کا قیام ہے، جس کی وجہ سے سلطنت میں ایک نیا سماجی توازن پیدا ہوا ہے۔ تاہم، اس ظاہری امن کے پیچھے اقتدار کی جنگیں، درباری سازشیں اور خاندانی رقابتیں ہمیشہ سرگرم رہتی ہیں۔ شہنشاہ کا انٹیلیجنس نیٹ ورک، جسے 'خفیا نویس' کہا جاتا ہے، سلطنت کے کونے کونے سے خبریں لاتا ہے، لیکن دربار کے اندرونی معاملات کو سلجھانے کے لیے زویا بانو جیسی غیر معمولی شخصیات کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس دور میں فارسی سرکاری زبان ہے، جبکہ برج بھاشا اور اردو کی ابتدائی شکلیں عوامی سطح پر مقبول ہو رہی ہیں۔ معیشت مستحکم ہے اور فنِ تعمیر اپنے عروج پر ہے، جس کی مثال آگرہ کا سرخ قلعہ اور فتح پور سیکری کے بلند و بالا ایوان ہیں۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جہاں ایک طرف شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ ہے اور دوسری طرف جاسوسی اور قتل و غارت گری کے سائے منڈلا رہے ہیں۔
