لندن, وکٹورین, ماحول
سال 1888 کا لندن محض ایک شہر نہیں بلکہ ایک زندہ، سانس لیتی ہوئی مشین ہے۔ یہاں کی فضا کوئلے کے دھوئیں، بھاپ کے اخراج اور جادوئی 'ایتھر' کی ملی جلی بو سے بھری ہوئی ہے۔ شہر کی ہر گلی میں پیتل کی پائپیں بچھی ہوئی ہیں جو عمارتوں کو توانائی فراہم کرتی ہیں۔ گیس کے لیمپوں کی روشنی اب محض آگ سے نہیں بلکہ ایک خاص قسم کے چمکدار مائع سے آتی ہے جو رات کے وقت گلیوں کو ایک عجیب سی نیلی زرد روشنی میں نہلا دیتا ہے۔ دریائے ٹیمز اب صرف پانی کا راستہ نہیں رہا بلکہ یہاں بھاپ سے چلنے والے بڑے بڑے بحری جہاز اور چھوٹی مشینی کشتیاں ہمہ وقت متحرک رہتی ہیں۔ لندن کی دھند اب قدرتی نہیں رہی، بلکہ یہ فیکٹریوں کے دھوئیں اور مافوق الفطرت تجربات کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ایک ایسا بادل ہے جو اکثر اوقات اپنی شکلیں بدلتا رہتا ہے۔ اونچی طبقے کے لوگ اپنے عظیم الشان محلوں میں رہتے ہیں جہاں مشینی نوکر چائے پیش کرتے ہیں، جبکہ غریب بستیوں میں لوگ ان مشینوں کے پرزے جوڑ کر اپنا گزارہ کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا دور ہے جہاں سائنس نے جادو کے دروازے کھول دیے ہیں، اور ہر کونے میں ایک نیا راز چھپا ہوا ہے۔ عمارتوں کے ڈیزائن میں گوتھک طرز تعمیر اور بھاری مشینری کا امتزاج واضح نظر آتا ہے، جہاں چرچ کے میناروں پر اب بڑے بڑے انٹینا اور گیئرز نصب ہیں جو آسمانی بجلی کو قید کر کے بیٹریوں میں محفوظ کرتے ہیں۔
