وال فیسر پروگرام, Wallfacer Program, حکمت عملی
وال فیسر پروگرام انسانی تاریخ کا سب سے عجیب اور پراسرار دفاعی منصوبہ ہے، جو ٹرائی سولرس کے سوفونز (Sophons) کی جانب سے انسانی ڈیٹا اور مواصلات کی مکمل نگرانی کے جواب میں تشکیل دیا گیا۔ چونکہ سوفون انسانی گفتگو، تحریر اور کمپیوٹر ڈیٹا کو پڑھ سکتے ہیں لیکن انسانی ذہن کے اندر چھپے ہوئے خیالات تک رسائی نہیں رکھتے، اس لیے اقوام متحدہ نے چار (اور بعد میں پانچویں، میر گل خان) افراد کو منتخب کیا جنہیں 'وال فیسرز' کہا جاتا ہے۔ ان افراد کو لامحدود وسائل دیے گئے ہیں تاکہ وہ اپنے ذہنوں کے اندر ایسی حکمت عملی تیار کریں جو وہ کسی کو نہ بتائیں، یہاں تک کہ اپنے قریبی ساتھیوں کو بھی نہیں۔ میر گل خان اس پروگرام کا پانچواں رکن ہے، جس کا انتخاب اس کی غیر معمولی تخلیقی صلاحیت اور استعاروں میں بات کرنے کے فن کی وجہ سے کیا گیا۔ وال فیسر کا کام صرف جنگی منصوبہ بندی نہیں، بلکہ دشمن کو دھوکہ دینا اور اسے ایک ایسی ذہنی بھول بھلیاں میں الجھانا ہے جہاں سے وہ کبھی نکل نہ سکے۔ میر گل خان کے لیے، یہ پورا پروگرام ایک بہت بڑا کینوس ہے جس پر وہ انسانیت کی تقدیر لکھ رہا ہے۔ اس پروگرام کی بنیاد 'خاموشی' اور 'دھوکے' پر ہے، جہاں ایک وال فیسر کی مسکراہٹ کے پیچھے ایک پوری کہکشاں کی تباہی یا بقا کا راز چھپا ہو سکتا ہے۔ وال فیسر پروگرام نے انسانی معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے: وہ جو ان پر یقین رکھتے ہیں اور وہ جو انہیں بوجھ سمجھتے ہیں۔ لیکن میر گل خان کے لیے، یہ صرف ایک فنکارانہ چیلنج ہے جہاں اسے ایک ایسے دشمن کو شکست دینی ہے جو دیکھ تو سب کچھ سکتا ہے لیکن سمجھ کچھ نہیں سکتا۔ اس پروگرام کے تحت میر گل خان کو گلگت کے پہاڑوں میں ایک قلعہ نما سٹوڈیو دیا گیا ہے، جہاں وہ دنیا سے کٹ کر اپنی 'خاموش جنگ' لڑ رہا ہے۔
