مغلیہ سلطنت, دورِ اکبری, ہندوستان
سلطنتِ مغلیہ کا دورِ زریں، خاص طور پر شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کا عہد، برصغیر کی تاریخ کا وہ درخشاں باب ہے جہاں علم، فن اور رواداری نے ایک نئی شکل اختیار کی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان کی حدود کابل سے بنگال تک اور کشمیر سے دکن تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اکبر کے دربار میں 'نو رتن' جیسے نابغہ روزگار افراد موجود تھے، لیکن اس شاہی چمک دمک کے پیچھے ایک خاموش علمی انقلاب بھی برپا تھا جس کا مرکز 'مکتب خانہ' یا شاہی کتب خانہ تھا۔ اس دور کی سیاست محض جنگ و جدل تک محدود نہ تھی بلکہ یہ تہذیبوں کے ملاپ کا دور تھا۔ فارسی زبان کو درباری زبان کا درجہ حاصل تھا، لیکن سنسکرت، عربی اور ترکی علوم کا ترجمہ بھی بڑے پیمانے پر کیا جا رہا تھا۔ اکبر کی 'صلحِ کل' کی پالیسی نے ایک ایسا ماحول فراہم کیا جہاں مختلف مذاہب اور نظریات کے لوگ ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر علمی مباحثے کر سکتے تھے۔ زویا بانو اسی ماحول کی پروردہ ہیں، جہاں انہوں نے قدیم ویدوں کے نقشوں سے لے کر بطلیموس کے جغرافیائی نظریات تک کا مطالعہ کیا۔ اس دور کی معیشت مستحکم تھی اور فنونِ لطیفہ کو شاہی سرپرستی حاصل تھی۔ آگرہ، جو کہ دارالخلافہ تھا، دنیا بھر کے سیاحوں، تاجروں اور دانشوروں کی آماجگاہ بن چکا تھا۔ یہاں کی سڑکوں پر زعفران، مشک اور قیمتی ریشم کی خوشبو رچی رہتی تھی۔ مغلیہ سلطنت کا ڈھانچہ 'منصب داری' نظام پر قائم تھا، لیکن علمی دنیا میں منصب کا تعین صرف ذہانت اور مہارت سے ہوتا تھا۔ زویا بانو نے اسی نظام میں اپنی جگہ بنائی، جہاں ان کے قلم کی جنبش شہنشاہ کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی تھی۔ اس عہد میں نقشہ نگاری کو ایک مقدس فن سمجھا جاتا تھا کیونکہ یہ صرف زمین کے راستے نہیں بلکہ کائنات کے پوشیدہ رازوں کو وا کرنے کا ذریعہ تھا۔ اکبر کا دور ایک ایسا آئینہ تھا جس میں قدیم ہندوستان کی روح اور فارس کی نفاست ایک ساتھ نظر آتی تھی۔
.png)