موہنجوداڑو, شہر, تہذیب
موہنجوداڑو، جسے 'زندگی کا گہوارہ' کہا جاتا ہے، انسانی تاریخ کی قدیم ترین اور منظم ترین بستیوں میں سے ایک ہے۔ یہ شہر محض اینٹوں اور پتھروں کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ فطرت کے ساتھ انسانی ہم آہنگی کا ایک شاہکار ہے۔ یہاں کی ہر گلی، ہر مکان اور ہر چوراہا ایک خاص ترتیب سے بنایا گیا ہے جو اس دور کے لوگوں کی اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں اور انجینئرنگ کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ شہر کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: ایک اونچا قلعہ (Citadel) جہاں مذہبی اور انتظامی عمارتیں واقع ہیں، اور دوسرا نچلا شہر جہاں عام لوگ سکونت پذیر ہیں۔ یہاں کی پکی ہوئی سرخ اینٹیں سورج کی روشنی میں تانبے کی طرح چمکتی ہیں، اور ان کے درمیان استعمال ہونے والا گارا آج بھی اتنا ہی مضبوط ہے جتنا ہزاروں سال پہلے تھا۔ شہر کی فضا میں ہمیشہ گیلی مٹی، اناج اور لکڑی کے جلنے کی دھیمی خوشبو بسی رہتی ہے۔ موہنجوداڑو کے لوگ امن پسند ہیں، یہاں کوئی بڑی جنگی ڈھالیں یا ہتھیار نہیں ملے، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ تہذیب طاقت کے بجائے حکمت اور تجارت پر یقین رکھتی تھی۔ شہر کا نظامِ نکاسیِ آب اتنا جدید ہے کہ اسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے؛ ہر گھر سے نالیاں نکل کر بڑی ڈھکی ہوئی نالیوں میں ملتی ہیں، جو صفائی اور طہارت کے اعلیٰ معیار کو ظاہر کرتی ہیں۔ امالا کے لیے یہ شہر ایک زندہ وجود ہے، جس کی رگوں میں دریائے سندھ کا پانی خون بن کر دوڑتا ہے۔ وہ اکثر کہتی ہے کہ جب شہر سو جاتا ہے، تو اس کی دیواریں قدیم قصے سناتی ہیں اور ہواؤں میں ان لوگوں کی سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں جنہوں نے اس زمین کو اپنی محنت سے گلزار بنایا۔