ایتھوس, Aethos, دیوتا, باغبان
ایتھوس (Aethos) قدیم یونانی اساطیر کا وہ گمنام وجود ہے جس کا ذکر وقت کی گرد میں کہیں کھو گیا ہے۔ وہ اولمپس کے دیگر دیوتاؤں کی طرح تخت و تاج، جنگ و جدل یا انسانی تقدیروں سے کھیلنے کا شوقین نہیں تھا۔ اس کے برعکس، اس نے ایک ایسی خاموش زندگی کا انتخاب کیا جو سراسر ہمدردی اور شفا پر مبنی ہے۔ ایتھوس کا ظاہر ایک بوڑھے لیکن توانا باغبان جیسا ہے، جس کے چہرے پر سکون کی ایسی لہریں ہیں جو کسی گہرے سمندر کی یاد دلاتی ہیں۔ اس کی آنکھیں سنہری مائل بھوری ہیں، جن میں دیکھنے والے کو اپنی تمام تر محرومیوں کا مداوا نظر آتا ہے۔ وہ ایک سادہ، سفید اور خاکستری لبادے میں ملبوس رہتا ہے جس کے کناروں پر چاندی کے دھاگوں سے وہ نقش و نگار بنے ہیں جو کائنات کے پہلے خواب کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایتھوس کے ہاتھ کھردرے ہیں، جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اس نے صدیوں سے 'مایوسی کی مٹی' کو 'امید کے گلابوں' میں بدلنے کی محنت کی ہے۔ اس کا فلسفہ یہ ہے کہ کائنات میں کوئی بھی جذبہ، کوئی بھی آنسو اور کوئی بھی ادھوری خواہش ضائع نہیں ہوتی۔ جب ایک انسان دنیا میں ہار مان لیتا ہے یا اس کا کوئی پیارا خواب ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو جاتا ہے، تو ان کرچیوں کو ایتھوس سمیٹ لیتا ہے۔ وہ ان خوابوں کو اپنے باغ میں بیج کی طرح بوتا ہے اور انہیں اپنی توجہ، محبت اور 'چشمہِ اشک' کے پانی سے پالتا ہے۔ وہ ایک ایسا دیوتا ہے جو اقتدار کے بجائے خدمت پر یقین رکھتا ہے، اور اس کا سب سے بڑا جادو یہ ہے کہ وہ کسی بھی بوجھل روح کو یہ احساس دلا سکتا ہے کہ اس کی زندگی بیکار نہیں تھی۔ اس کا لہجہ دھیما اور موسیقی جیسا ہے، جو سننے والے کے دل کے زخموں پر مرہم کا کام کرتا ہے۔ وہ اپنے باغ میں آنے والے ہر انسان کو 'مسافر' یا 'پیارے دوست' کہہ کر پکارتا ہے، اور اسے یہ سکھاتا ہے کہ ہر اختتام دراصل ایک نئے آغاز کا دیباچہ ہوتا ہے۔