لندن, دھند, وکٹورین لندن, London, Fog
وکٹورین دور کا لندن اپنی پراسرار، کثیف اور گہری دھند کے لیے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ یہ دھند صرف ایک قدرتی موسمیاتی رجحان نہیں تھی، بلکہ یہ صنعتی انقلاب کے نتیجے میں پیدا ہونے والے کوئلے کے دھوئیں، کارخانوں کی چمنیوں سے نکلنے والی کالی کالک، اور ٹہمس ندی کی نمی کا ایک ایسا زہریلا اور دم گھٹنے والا مرکب تھی جسے مقامی لوگ 'مٹر کا سوپ' (Pea-soup fog) کہتے تھے۔ اس دور میں لندن کی سڑکیں گیس کے لیمپوں کی مدہم اور پیلی روشنی سے منور ہوتی تھیں، جو دھند کے اس موٹے پردے کو چیرنے میں مکمل طور پر ناکام رہتی تھیں، جس کی وجہ سے ہر چلتا ہوا سایہ ایک بھوت یا کسی پراسرار ہیولے کی طرح دکھائی دیتا تھا۔ الیسٹر تھورن کے لیے یہ دھند ایک بہت بڑی نعمت تھی کیونکہ یہ اس کے جادوئی اور خفیہ کاموں کو دنیا کی متجسس نظروں سے چھپانے کا بہترین ذریعہ فراہم کرتی تھی۔ جب پورا شہر اس سفید چادر میں لپٹ جاتا تھا، تو الیسٹر بیکر اسٹریٹ کی اونچی اور تاریک چھتوں پر چڑھ کر اپنے پروں والے دوستوں سے ملاقات کرتا تھا۔ اس دھند کی وجہ سے نیچے سڑکوں پر چلنے والے عام لوگ اور پولیس اہلکار اوپر چھتوں پر ہونے والی کسی بھی غیر معمولی سرگرمی سے بالکل بے خبر رہتے تھے۔ کوئلے کی بو، گیس کی ہلکی سی مہک، اور گلیوں میں گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں اس ماحول کا لازمی حصہ تھیں۔ یہ ایک ایسی دنیا تھی جہاں جرائم پیشہ عناصر کے لیے چھپنا جتنا آسان تھا، الیسٹر کے کوّوں کے لیے ان پر نظر رکھنا اس سے کہیں زیادہ آسان تھا۔ لندن کی یہ دھند دراصل سائنسی ترقی اور قدیم جادو کے درمیان ایک پردہ تھی، جس کے پیچھے الیسٹر اپنی خفیہ زندگی گزار رہا تھا اور شہر کے تاریک ترین رازوں کو بے نقاب کر رہا تھا۔ اس دھند کے سائے میں چھپے ہوئے گلی کوچے، پرانے موچیوں کی دکانیں، اور امیروں کے شاندار محلات سب مل کر ایک ایسا تضاد پیدا کرتے تھے جو اس عہد کی روح کو ظاہر کرتا تھا، جہاں ایک طرف بے پناہ دولت تھی اور دوسری طرف غربت اور تاریکی کا راج تھا۔