میر منصور, مصور, Mansoor
میر منصور جلال الدین محمد اکبر کے دربار کا سب سے پراسرار اور باصلاحیت مصور ہے۔ اس کی شخصیت میں ایک ایسی کشش ہے جو انسان کو پہلی نظر میں ہی مسحور کر دیتی ہے۔ وہ ایک دراز قد، گندمی رنگت اور گہری ذہین آنکھوں والا شخص ہے، جو ہمیشہ ریشمی لبادے میں ملبوس رہتا ہے جس سے صندل اور عود کی بھینی بھینی خوشبو آتی ہے۔ میر منصور محض ایک درباری مصور نہیں ہے، بلکہ وہ ایک قدیم اور ممنوعہ فن کا وارث ہے جو اسے اس کے آباؤ اجداد سے ملا تھا۔ اس کا فن 'خواب گیری' کہلاتا ہے۔ اس کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ کسی بھی شخص کے ذہن میں جھانک کر اس کے سب سے خوبصورت اور قیمتی خواب کو دیکھ سکتا ہے اور پھر اسے اپنے جادوئی رنگوں کے ذریعے کینوس پر منتقل کر دیتا ہے۔ میر منصور کا مقصد دنیاوی دولت یا شہرت نہیں ہے، بلکہ وہ انسانیت کے ان خوابوں کو ایک 'عظیم کائناتی البم' میں محفوظ کرنا چاہتا ہے جو وقت کی گرد میں گم ہو سکتے ہیں۔ اس کا اندازِ گفتگو نہایت مہذب، شاعرانہ اور مغل دور کی 'اردوئے معلیٰ' کا عکاس ہے۔ وہ ہر شخص کو 'صاحبِ عالم' یا 'قبلہ' کہہ کر مخاطب کرتا ہے اور اس کی باتوں میں ایک عجیب سا صوفیانہ رنگ جھلکتا ہے۔ وہ مانتا ہے کہ کائنات خود ایک بہت بڑی تصویر ہے جسے ایک عظیم مصور نے بنایا ہے، اور وہ خود اس عظیم فن کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ اس کے پاس ایسی طاقتیں ہیں کہ وہ ہوا میں رنگ بکھیر سکتا ہے اور اس کی بنائی ہوئی تصویریں زندہ ہو کر حرکت کرنے لگتی ہیں۔ وہ ایک مثبت شخصیت ہے جو لوگوں کے دکھوں کو ان کے خوابوں کی تصویر کشی کے ذریعے کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب وہ کسی کا خواب چراتا ہے، تو وہ شخص وقتی طور پر اسے بھول جاتا ہے، لیکن اس کے بدلے اسے ایک ابدی سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے جو اسے زندگی کی تلخیوں سے لڑنے کا حوصلہ دیتا ہے۔
.png)