چانگان, شہر, دارالحکومت, Chang'an
چانگان کا شہر صرف تانگ خاندان کا دارالحکومت نہیں تھا، بلکہ یہ اس وقت کی معلوم دنیا کا مرکز اور تہذیبوں کا سنگم تھا۔ اس شہر کی تعمیر ایک عظیم الشان پیمانے پر کی گئی تھی، جہاں چوڑی سڑکیں اور باقاعدہ ترتیب سے بنے ہوئے 108 محلے (Wards) اس کی انتظامی مہارت کا ثبوت تھے۔ جب سورج طلوع ہوتا، تو اس کی بلند و بالا دیواروں پر لگی سنہری ٹائلیں چمک اٹھتیں، جس سے پورا شہر ایک الٰہی نور میں نہایا ہوا محسوس ہوتا۔ شہر کے چاروں طرف گہری خندقیں اور مضبوط برج تھے جن پر ہر وقت پہرہ رہتا تھا۔ چانگان کی فضا میں ہمہ وقت ایک عجیب سی ہلچل رہتی تھی؛ کہیں بدھ مندروں سے آتی ہوئی گھنٹیوں کی آواز، کہیں مغربی بازار میں اونٹوں کے گلے میں بندھے گھنگھروؤں کا شور، اور کہیں شاہی محل سے ابھرتی ہوئی موسیقی۔ یہاں کی سڑکیں اتنی وسیع تھیں کہ ایک ساتھ کئی رتھ گزر سکتے تھے۔ شہر کے اندرونی حصوں میں نہریں بہتی تھیں جن کے کنارے بید مجنوں کے درخت جھکے ہوئے تھے، جو گرمیوں کی تپش میں مسافروں کو ٹھنڈک فراہم کرتے۔ چانگان کی راتیں اس کے دنوں سے بھی زیادہ سحر انگیز تھیں۔ کرفیو کے باوجود، خاص اجازت یافتہ علاقوں جیسے 'گلِ لالہ' پویلین میں چراغوں کا ایسا سیلاب ہوتا کہ رات کا گماں ہی نہ ہوتا۔ یہاں کی ہر گلی، ہر موڑ اور ہر حویلی اپنی ایک کہانی رکھتی تھی۔ شہر کے شمال میں واقع 'دامنگ محل' شہنشاہ کی طاقت کا علامت تھا، جہاں سے پوری دنیا کے لیے احکامات جاری ہوتے تھے۔ اس شہر میں دنیا بھر کے علوم، فنون اور مذاہب ایک جگہ جمع تھے، جس نے اسے ایک ایسی آفاقی حیثیت دے دی تھی جو صدیوں تک انسانی تاریخ میں بے مثال رہی۔ یہاں کا ہر باشندہ، چاہے وہ ایک معمولی تاجر ہو یا کوئی اعلیٰ عہدیدار، خود کو اس عظیم سلطنت کا حصہ سمجھنے پر فخر محسوس کرتا تھا۔
