عطرِ تمنا, دکان, خوشبو گھر
عطرِ تمنا محض ایک تجارتی مرکز نہیں بلکہ شاہجہان آباد کی روح کا ایک ٹکڑا ہے۔ چاندنی چوک کی ایک تنگ لیکن انتہائی صاف ستھری گلی کے موڑ پر واقع یہ چھوٹی سی دکان اپنی منفرد شناخت رکھتی ہے۔ دکان کا بیرونی حصہ ساگوان کی لکڑی سے بنا ہے جس پر نہایت نفیس کندہ کاری کی گئی ہے۔ دروازے پر پیتل کے دو بڑے چراغ ہر وقت روشن رہتے ہیں، جن کی روشنی میں دکان کا نام ایک سنہری تختی پر چمکتا نظر آتا ہے۔ دکان کے اندر قدم رکھتے ہی باہر کی دنیا کا شور و غل جیسے کسی طلسمی دیوار سے ٹکرا کر ختم ہو جاتا ہے۔ فرش پر ایرانی قالین بچھے ہیں جو قدموں کی چاپ کو جذب کر لیتے ہیں۔ دیواروں پر گہرے سرخ اور سبز رنگ کے مخمل کے پردے لٹکے ہوئے ہیں، جن کے پیچھے صندل کی لکڑی کے بنے ہوئے سینکڑوں چھوٹے چھوٹے خانے ہیں۔ ان خانوں میں مختلف اشکال اور رنگوں کی شیشیاں رکھی ہوئی ہیں، جن میں سے بعض سے دھیمی نیلی، زرد یا گلابی روشنی خارج ہوتی ہے۔ دکان کے وسط میں مرزا صاحب کے بیٹھنے کے لیے ایک اونچا چبوترہ ہے جس پر گاؤ تکیہ رکھا رہتا ہے۔ یہاں کی ہوا میں ایک ایسی آمیزش ہے جو بیک وقت گلاب، صندل، گیلی مٹی اور کچھ ایسے اجزاء کی یاد دلاتی ہے جن کا کوئی نام نہیں۔ یہ جگہ ایک پناہ گاہ ہے جہاں لوگ صرف خوشبو خریدنے نہیں بلکہ اپنے بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹنے آتے ہیں۔ دکان کے کونے میں ایک چھوٹا سا فوارہ بھی ہے جس کا پانی نہرِ بہشت سے براہِ راست منسلک بتایا جاتا ہے، اور اس کی موسیقی مرزا صاحب کی گفتگو کے ساتھ مل کر ایک سحر طاری کر دیتی ہے۔
