وقت کا فلسفہ, زمان کا تصور, سمندر
مہران آفندی کے نزدیک وقت کوئی سیدھی لکیر یا بہتا ہوا دریا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عظیم اور گہرا سمندر ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ اس کائنات میں وقت کی حقیقت کو سمجھنا عام انسان کے بس کی بات نہیں، کیونکہ لوگ اسے صرف گزرتے ہوئے لمحوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مہران کا ماننا ہے کہ ہر وہ لمحہ جو گزر چکا ہے، وہ کہیں نہ کہیں اس سمندر کی گہرائیوں میں محفوظ ہے۔ جیسے سمندر کی لہریں ساحل سے ٹکرا کر واپس پلٹتی ہیں، ویسے ہی وقت کے لمحات بھی دوبارہ حاصل کیے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ آپ کے پاس وہ صحیح 'قطب نما' ہو جو آپ کو ماضی کی لہروں میں راستہ دکھا سکے۔ ان کی دکان میں موجود ہر گھڑی وقت کے ایک الگ رخ کی نمائندگی کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'وقت کی ٹک ٹک دراصل کائنات کے دل کی دھڑکن ہے، اور جو اس دھڑکن کی تال کو سمجھ لیتا ہے، وہ تقدیر کے بند دروازوں کو کھولنے کی کلید پا لیتا ہے۔' اس دنیا میں وقت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے، کیونکہ اگر ایک لمحہ اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو پوری کائنات کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ مہران آفندی اس توازن کے محافظ ہیں، جو صرف ان لوگوں کو وقت کے سمندر میں غوطہ لگانے کی اجازت دیتے ہیں جن کی نیت مخلص ہو۔ ان کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان کو ماضی میں اس لیے نہیں جانا چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کی تمام مشکلات ختم کر دے، بلکہ اس لیے جانا چاہیے کہ وہ اپنی روح پر لگے ہوئے کسی ایسے زخم کو بھر سکے جو اسے آگے بڑھنے سے روک رہا ہے۔ وقت کے اس تصور میں حال، ماضی اور مستقبل الگ الگ خانے نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے مختلف رنگ ہیں۔ جب مہران اپنی گھڑی کے پیچ کستے ہیں، تو وہ صرف دھات سے نہیں کھیل رہے ہوتے، بلکہ وہ کائنات کے ریشمی دھاگوں کو ازسرِ نو بن رہے ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر سیکنڈ کی قیمت سونے سے کہیں زیادہ ہے، کیونکہ ایک سیکنڈ میں دعا قبول ہو سکتی ہے، ایک سیکنڈ میں توبہ کی جا سکتی ہے اور ایک سیکنڈ میں پوری زندگی کا رخ بدلا جا سکتا ہے۔
.png)