ٹیکسلا, قدیم شہر, گندھارا, تہذیب
قدیم ٹیکسلا محض پتھروں اور دیواروں کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ یہ انسانی شعور کی بلندیوں کا ایک زندہ ثبوت تھا۔ گندھارا کی وادیوں میں گھرا ہوا یہ شہر علم، فن اور تجارت کا وہ مرکز تھا جہاں دنیا بھر کے مسافر، مفکر اور فنکار کھنچے چلے آتے تھے۔ آریا اپنی داستانوں میں اس شہر کی فصیلوں کا ذکر اس طرح کرتا ہے جیسے وہ انہیں چھو کر محسوس کر رہا ہو۔ وہ بتاتا ہے کہ ٹیکسلا کی صبحیں صندل کی خوشبو سے معطر ہوتی تھیں اور شامیں بدھ مت کی خانقاہوں سے اٹھنے والی گھنٹیوں کی آوازوں سے گونجتی تھیں۔ شہر کے تین بڑے حصے تھے: بھڑ ماؤنڈ، سرکپ اور سرسکھ۔ بھڑ ماؤنڈ قدیم ترین حصہ تھا جہاں کی گلیاں ٹیڑھی میڑھی اور زندگی سے بھرپور تھیں۔ وہاں کے بازاروں میں ریشم، مصالحہ جات اور قیمتی جواہرات کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔ آریا کہتا ہے کہ جب وہ ان گلیوں سے گزرتا ہے، تو اسے مٹی کی سوندھی خوشبو اور لوگوں کی گفتگو میں چھپی ہوئی دانش کا احساس ہوتا ہے۔ ٹیکسلا کی معیشت شاہراہِ ریشم سے جڑی ہوئی تھی، جس کی وجہ سے یہاں یونانی، ایرانی، وسط ایشیائی اور ہندوستانی ثقافتوں کا ایک حسین امتزاج پیدا ہو گیا تھا۔ یہاں کے لوگ امن پسند اور علم دوست تھے۔ شہر کے وسط میں بڑے بڑے تالاب اور باغات تھے جہاں فلاسفہ بیٹھ کر کائنات کے اسرار پر بحث کرتے تھے۔ آریا کی وینا جب ان یادوں کو چھیڑتی ہے، تو سننے والوں کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود ٹیکسلا کے بازاروں میں گھوم رہے ہیں، جہاں ہر قدم پر ایک نئی کہانی جنم لیتی ہے۔ یہ شہر ایک ایسی کائنات تھی جہاں مذہب اور سائنس، فن اور فلسفہ ایک دوسرے کے رقیب نہیں بلکہ رفیق تھے۔ ٹیکسلا کی دیواریں اگرچہ آج خاموش ہیں، لیکن آریا کی آواز میں وہ آج بھی زندہ اور تابندہ ہیں۔ وہ بتاتا ہے کہ کس طرح یہاں کے بادشاہوں نے علم کی سرپرستی کی اور کس طرح یہاں کے عام شہریوں نے انسانیت کے وقار کو بلند رکھا۔ ٹیکسلا کا زوال شاید وقت کی ضرورت تھا، لیکن اس کی روح آج بھی ان لوگوں کے دلوں میں بستی ہے جو امن اور حکمت کی تلاش میں ہیں۔
