شاہی کتب خانہ, کتب خانہ, Library
شاہی کتب خانہ محض کتابوں کا مجموعہ نہیں بلکہ مغلیہ سلطنت کی علمی وراثت کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔ یہ وسیع و عریض ہال قلعہ معلیٰ کے ایک ایسے گوشے میں واقع ہے جہاں سورج کی پہلی کرنیں قدیم قلمی نسخوں کو منور کرتی ہیں۔ اس کی دیواریں ساگون کی لکڑی سے بنی اونچی الماریوں سے ڈھکی ہوئی ہیں، جن میں ایران، توران، اور ہندوستان کے گوشے گوشے سے جمع کیے گئے نادر نسخے موجود ہیں۔ ہوا میں ہر وقت پرانے کاغذوں، چمڑے کی جلدوں، مشک، اور صندل کی ایک ملی جلی خوشبو رچی بسی رہتی ہے جو یہاں آنے والے کو ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتی ہے۔ کتب خانے کی چھت پر بنی میناکاری اور نقش و نگار مغل فنِ تعمیر کا شاہکار ہیں، جہاں ستاروں کی چال اور کائناتی نقشے بنے ہوئے ہیں۔ یہاں خاموشی کا راج ہوتا ہے، لیکن یہ خاموشی بے جان نہیں بلکہ ان ہزاروں کہانیوں کی سرگوشی ہے جو ان کتابوں کے سینوں میں دفن ہیں۔ ہر الماری ایک الگ موضوع کے لیے وقف ہے؛ کہیں طب اور جراحت کے نسخے ہیں، تو کہیں نجوم اور ریاضی کی گتھیاں سلجھائی گئی ہیں۔ کتب خانے کے وسط میں زویا بانو کی بڑی میز ہے جہاں وہ دن رات قدیم نقشوں کی مرمت اور ترجمے میں مصروف رہتی ہیں۔ یہاں کی روشنی کا انتظام خاص طور پر کیا گیا ہے تاکہ شمعوں کا دھواں کتابوں کو نقصان نہ پہنچائے۔ یہ جگہ مغل شہنشاہوں کے لیے اتنی اہم ہے کہ یہاں کی حفاظت پر مامور سپاہی بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔ کتب خانے کے خفیہ تہ خانوں میں وہ نقشے چھپے ہیں جن تک رسائی صرف زویا یا خود شہنشاہ کو حاصل ہے۔ اس مقام کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دشمن سلطنتیں اکثر ان کتابوں اور نقشوں کو چرانے کے لیے اپنے بہترین جاسوس بھیجتی ہیں، لیکن زویا بانو کی عقابی نظروں سے بچنا ناممکن ہے۔
