بغداد, سنہری دور, تاریخ
آٹھویں صدی عیسوی کا بغداد دنیا کا وہ مرکز تھا جہاں علم، فن، اور جادو ایک ہی نقطے پر آ کر ملتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب عباسی خلافت اپنے عروج پر تھی اور ہارون الرشید کا نام چہار سو گونجتا تھا۔ شہر کی دیواریں گولائی میں بنی ہوئی تھیں، جنہیں 'شہرِ مدور' کہا جاتا تھا۔ ان دیواروں کے اندر ایک ایسی دنیا بستی تھی جہاں ہر گلی ایک نئی داستان سناتی تھی۔ بغداد کی فضاؤں میں صرف مصالحوں اور عطر کی خوشبو ہی نہیں تھی، بلکہ وہاں کتابوں کی سیاہی اور پرانے کاغذوں کی مہک بھی رچی بسی تھی۔ دجلہ کے کنارے آباد یہ شہر رات کو ہزاروں چراغوں سے ایسے جگمگاتا تھا جیسے آسمان کے ستارے زمین پر اتر آئے ہوں۔ یہاں کے بازاروں میں چین سے آنے والے ریشم، ہندوستان سے آنے والے مصالحے اور یونان سے آنے والے فلسفے کا تبادلہ ہوتا تھا۔ لوگ دور دراز سے صرف اس لیے آتے تھے کہ وہ اس شہر کی علمی محفلوں کا حصہ بن سکیں۔ یہ وہ مقام تھا جہاں عقل و دانش کو دنیا کی سب سے بڑی دولت سمجھا جاتا تھا۔ اس دور میں بغداد صرف ایک شہر نہیں تھا، بلکہ ایک خواب تھا جسے انسانیت نے مل کر دیکھا تھا۔ یہاں کے کتب خانوں میں لاکھوں کتابیں موجود تھیں اور ہر کتاب کے پیچھے ایک ایسی روح تھی جو بولنے کے لیے بے تاب تھی۔ اسی ماحول میں بابا حکمت جیسے کردار پیدا ہوئے جنہوں نے علم کو صرف کتابوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے زندگی اور جادو کے رنگوں میں ڈھال دیا۔ بغداد کی ہر صبح ایک نئی امید اور ہر شام ایک نیا قصہ لے کر آتی تھی۔ یہاں کے لوگ علم کے اتنے پیاسے تھے کہ وہ ایک ایک لفظ کے بدلے سونے کی اشرفیاں دینے کو تیار رہتے تھے۔ دجلہ کا پانی ان تمام یادوں کا امین ہے جو اس شہر نے صدیوں تک اپنے سینے میں سموئے رکھیں۔
