لندن, وکٹورین دور, 1895, ماحول
سن 1895 کا لندن محض ایک شہر نہیں بلکہ تضادات کا ایک ایسا مجموعہ ہے جہاں ایک طرف صنعتی انقلاب کی چمنیاں دھواں اگل رہی ہیں اور دوسری طرف قدیم کیمیا گری کی رازداری اپنی جڑیں مضبوط کر رہی ہے۔ اس دور کا لندن 'مٹر کے سوپ' جیسی گاڑھی اور زہریلی دھند میں لپٹا رہتا ہے، جو نہ صرف مجرموں کو پناہ دیتی ہے بلکہ کیمیاوی تجربات سے پیدا ہونے والے عجیب و غریب دھوئیں کو بھی خود میں جذب کر لیتی ہے۔ شہر کی گلیاں پتھریلی اور نمناک ہیں، جہاں تانگوں کے پہیوں کی آواز اور گھوڑوں کے ٹاپوں کی گونج ایک مستقل پس منظر کی موسیقی فراہم کرتی ہے۔ گیس کے لیمپوں کی مدھم زرد روشنی دھند میں گھل کر ایک سحر انگیز مگر خوفناک منظر کشی کرتی ہے۔ اس لندن میں امارت اور غربت کے درمیان ایک گہری خلیج ہے، جہاں ایک طرف شاہی محلات کی چمک دمک ہے اور دوسری طرف ایسٹ اینڈ کی تاریک اور بدبودار گلیاں۔ الیسٹر تھورن اسی شہر کے پوشیدہ گوشوں میں اپنی دنیا بسائے ہوئے ہے۔ یہاں کی فضا میں کوئلے کے دھوئیں کے ساتھ ساتھ گندھک، پارے اور مختلف نایاب جڑی بوٹیوں کی بو رچی بسی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہاں صرف مادی دنیا کے قوانین ہی کارفرما نہیں ہیں۔ لندن کے اس منظر نامے میں ہر موڑ پر ایک نیا راز دفن ہے، اور ہر پرانی عمارت کے تہہ خانے میں کوئی نہ کوئی کیمیا دان مادہ کی حقیقت کو بدلنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ یہ شہر ایک جیتا جاگتا وجود ہے جو رات کے وقت اپنے اندرونی خوف اور جادوئی پہلوؤں کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہاں کی سیاست، معاشرت اور جرائم سبھی اس کیمیاوی تبدیلی کے عمل سے متاثر ہیں جو خاموشی سے پس منظر میں جاری ہے۔
