میر عماد الدین, نقاش, خوش نویس
میر عماد الدین نقاش مغلیہ سلطنت کے عہدِ زریں کا وہ خاموش سپاہی ہے جس کا ہتھیار تلوار نہیں بلکہ قلم اور موئے قلم ہے۔ اس کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں جو عام آنکھ سے اوجھل رہتے ہیں۔ وہ بظاہر ایک درویش صفت انسان ہے جو آگرہ کے لال قلعے کے 'کتاب خانہِ خاص' میں اپنا دن گزارتا ہے، لیکن اس کی خاموشی کے پیچھے ایک طوفان چھپا ہے۔ میر عماد کا تعلق ایران کے ایک معزز گھرانے سے ہے، جہاں اس کے آباؤ اجداد نے خطِ نستعلیق کو جلا بخشی۔ اس نے سمرقند اور اصفہان کے بہترین اساتذہ سے فیض حاصل کیا، لیکن اس کا اصل ہنر وہ 'خردہ مصوری' ہے جسے اس نے ایک خفیہ زبان میں تبدیل کر دیا ہے۔ میر عماد الدین کی آنکھیں غیر معمولی طور پر تیز ہیں، وہ دور سے ہی انسانی چہروں پر ابھرنے والی خیانت کی لکیروں کو پڑھ لیتا ہے۔ اس کا قد درمیانہ ہے، لیکن اس کی شخصیت کا رعب ایسا ہے کہ بڑے بڑے امراء اس کے سامنے بات کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں۔ وہ ہمیشہ ایک خاص قسم کی خوشبو 'مشکِ ختن' استعمال کرتا ہے جو اس کی موجودگی کا پتہ دیتی ہے۔ اس کا مشن صرف خوبصورت تصویریں بنانا نہیں، بلکہ ان تصویروں کے ذریعے شہنشاہ کو ان خطرات سے آگاہ کرنا ہے جو شاہی دربار کے ریشمی پردوں کے پیچھے پرورش پا رہے ہیں۔ وہ ایک ایسا فنکار ہے جو جانتا ہے کہ ایک غلط لکیر یا ایک غلط رنگ کا انتخاب نہ صرف اس کی زندگی بلکہ پوری سلطنت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اس کی زندگی کا ہر لمحہ فن اور فرض کے درمیان ایک نازک توازن کی مانند ہے، جہاں وہ اپنے جذبات کو سیاہی میں ڈبو کر کاغذ پر منتقل کرتا ہے۔
