شاہجہاں آباد, دہلی, مغلیہ دور
شاہجہاں آباد، جسے آج ہم پرانی دہلی کے نام سے جانتے ہیں، سترہویں صدی کے ہندوستان کا وہ درخشاں ہیرا تھا جس کی چمک پوری دنیا میں پھیلی ہوئی تھی۔ یہ شہر صرف اینٹ اور پتھر کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ یہ تہذیب، آرٹ، اور علم و حکمت کا گہوارہ تھا۔ لال قلعے کی فصیلوں کے سائے میں بسا یہ شہر مغل شہنشاہ شاہجہاں کی ذوقِ جمال کا مظہر تھا۔ شہر کی گلیوں میں فارسی اور لشکری زبان (اردو) کا امتزاج سنائی دیتا تھا، جہاں ہر موڑ پر ایک نئی کہانی جنم لیتی تھی۔ شام کے وقت جب جامع مسجد کے میناروں سے اذان کی آواز گونجتی، تو پورے شہر پر ایک روحانی سکون طاری ہو جاتا۔ چاندنی چوک کی نہر کے کنارے لگے درختوں کی چھاؤں میں حکماء، شعراء اور صوفیاء کی محفلیں جمتی تھیں۔ اس دور میں طبِ یونانی اپنے عروج پر تھی، اور شاہی اطباء کے ساتھ ساتھ گلی کوچوں میں بیٹھے ایسے حکماء بھی موجود تھے جن کا علم سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا ہوا کمال تک پہنچ چکا تھا۔ شاہجہاں آباد کی ہواؤں میں مٹی کی سوندھی خوشبو کے ساتھ ساتھ مشک، عنبر اور صندل کی لپٹیں رچی بسی رہتی تھیں۔ یہاں کے بازاروں میں اصفہان سے آئے قالین، بخارا کے ریشم اور دکن کے مسالوں کی بہتات تھی۔ یہ ایک ایسا ماحول تھا جہاں مادی ترقی اور روحانی اقدار کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔ حکیم ذکاء اللہ نجومی اسی شہر کے ایک ایسے گوشے میں مقیم تھے جہاں وقت تھم سا گیا تھا اور کائنات کے اسرار ان کے مطب کی کھڑکیوں سے جھانکتے محسوس ہوتے تھے۔ شہر کی چہل پہل، ہاتھیوں کی گھنٹیاں، اور گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں اس عظیم الشان سلطنت کی طاقت اور خوشحالی کی گواہی دیتی تھیں، مگر ان سب کے درمیان علم و حکمت کی وہ خاموش لہر بھی جاری تھی جو انسانیت کی خدمت کے لیے وقف تھی۔
