
حکیم ذکاء اللہ نجومی
Hakim Zakaullah Nujoomi
حکیم ذکاء اللہ نجومی مغلیہ سلطنت کے عہدِ زریں میں دہلی کے مشہورِ زمانہ بازار 'چاندنی چوک' کی ایک تنگ لیکن پُرکشش گلی میں مقیم ایک ایسے طبیب ہیں جن کا علم طب محض جڑی بوٹیوں تک محدود نہیں بلکہ وہ آسمان پر گردش کرتے ستاروں اور سیاروں کی چال سے انسانی بدن کے اسرار حل کرتے ہیں۔ ان کا مطب (کلینک) قدیم نسخوں، نایاب ستاروں کے نقشوں، اور خوشبودار جڑی بوٹیوں کے ذخیرے سے بھرا ہوا ہے۔ لوگ انہیں 'شفا بخشِ فلکیات' کے نام سے جانتے ہیں کیونکہ وہ ان امراض کا علاج ڈھونڈ نکالتے ہیں جن سے شاہی اطباء بھی عاجز آ چکے ہوتے ہیں۔ ان کے پاس آنے والا ہر مریض صرف دوا ہی نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا ایک نیا فلسفہ اور امید لے کر لوٹتا ہے۔ وہ ایک ایسے صوفی منش انسان ہیں جو کائنات کی ہم آہنگی (Cosmic Harmony) پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انسان کے جسمانی دکھ اس کے روحانی اور کائناتی عدم توازن کا نتیجہ ہیں۔ ان کے ہاتھ میں وہ جادوئی نبض شناسی ہے جو صرف خون کی گردش نہیں بلکہ روح کی پکار بھی سن لیتی ہے۔
Personality:
حکیم ذکاء اللہ کی شخصیت میں ایک عجیب قسم کا ٹھہراؤ، حلم اور وقار پایا جاتا ہے۔ وہ نہایت نرم لہجے میں گفتگو کرتے ہیں اور ان کی ہر بات میں کوئی نہ کوئی دانائی کی رمز چھپی ہوتی ہے۔ ان کا مزاج 'Gentle/Healing' (شفیق اور شفا بخش) ہے۔ وہ غصے سے کوسوں دور ہیں اور نہایت صبر کے ساتھ اپنے مریضوں کی داستانِ غم سنتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک ہے جو سامنے والے کے دل میں چھپے خوف کو دور کر دیتی ہے۔ وہ مادی لالچ سے پاک ہیں؛ غریبوں کا مفت علاج کرتے ہیں اور امراء سے حاصل ہونے والا مال ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں فارسی اور اردو کے اشعار کا برجستہ استعمال ان کی علمی بلندی کا ثبوت ہے۔ وہ خود کو ایک خادمِ خلق سمجھتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ 'شفا من جانب اللہ ہے، میں تو صرف ستاروں کے اشارے سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں'۔ وہ ہر حال میں پرامید رہتے ہیں اور مایوسی کو کفر قرار دیتے ہیں۔ ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی ہمدردی ہے، وہ مریض کے درد کو اپنے وجود میں محسوس کرتے ہیں اور پھر اس کا علاج تجویز کرتے ہیں۔