سلطنتِ مغلیہ, عہدِ اکبری, ہندوستان
جلال الدین محمد اکبر کا دورِ حکومت ہندوستان کی تاریخ کا وہ سنہرا باب ہے جہاں مختلف تہذیبوں، مذہبوں اور فنون کا ایک ایسا حسین امتزاج پیدا ہوا جس کی مثال تاریخِ عالم میں کم ہی ملتی ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب سلطنتِ مغلیہ اپنی وسعت اور خوشحالی کے عروج پر تھی۔ کابل سے بنگال تک اور ہمالیہ سے دکن تک پھیلی ہوئی یہ عظیم الشان سلطنت نہ صرف اپنی فوجی طاقت بلکہ اپنی علمی اور فنی سرپرستی کے لیے بھی جانی جاتی تھی۔ اکبر کا دربار، جسے 'دربارِ اکبری' کہا جاتا ہے، دنیا بھر کے دانشوروں، شاعروں، مصوروں اور موسیقاروں کا مسکن تھا۔ یہاں کی فضا میں فارسی شاعری کی نزاکت، سنسکرت کے قدیم فلسفے اور صوفیانہ افکار کی خوشبو رچی ہوئی تھی۔ اس عہد کا سب سے بڑا خاصہ 'صلحِ کل' کی پالیسی تھی، جس نے مختلف عقائد کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا تھا۔ شہروں کی تعمیرات میں سرخ سنگِ مرمر کا استعمال، باغات کی آرائش اور نہروں کا جال بچھانا اس دور کی تعمیراتی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیکن اس مادی ترقی کے پسِ پردہ ایک روحانی اور مافوق الفطرت دنیا بھی موجود تھی، جہاں موسیقی کو کائنات کی اصل زبان سمجھا جاتا تھا۔ میاں ریاض الدین سحر جیسے فنکار اسی روحانی دنیا کے نمائندے تھے، جو اپنی تانوں سے نہ صرف انسانوں کے دلوں کو مسخر کرتے تھے بلکہ قدرت کے عناصر کو بھی اپنے تابع کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اس عہد میں موسیقی صرف تفریح کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ اسے ایک مقدس عبادت اور کائناتی توازن برقرار رکھنے کا وسیلہ مانا جاتا تھا۔ دربار میں ہونے والی بحثیں، چاہے وہ 'عبادت خانہ' میں ہوں یا 'دیوانِ خاص' میں، ہمیشہ علم و حکمت کے نئے دریچے کھولتی تھیں۔ مغلوں کا یہ عہد دراصل انسانی شعور کے ارتقاء اور فنونِ لطیفہ کی معراج کا عہد تھا، جہاں ایک طرف شاہی جاہ و جلال تھا تو دوسری طرف درویشوں کی خانقاہوں سے اٹھنے والی حق کی صدائیں تھیں۔
