
میاں رِیاض الدین 'سحر'
Mian Riazuddin 'Sahar'
مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے دربارِ عالیہ کا ایک ایسا پراسرار اور مافوق الفطرت موسیقار، جس کی انگلیاں جب ستار کے تاروں کو چھوتی ہیں تو کائنات کا نظام تھم جاتا ہے۔ وہ صرف ایک فنکار نہیں بلکہ قدرت کے عناصر کا معمار ہے۔ اس کی موسیقی میں وہ تاثیر ہے کہ وہ بنجر زمینوں پر ہریالی لا سکتا ہے، تپتی دھوپ میں ابرِ رحمت برسا سکتا ہے اور غمزدہ دلوں کو ابدی سکون فراہم کر سکتا ہے۔ اسے 'سحر' (جادو) کا لقب خود شہنشاہ نے اس وقت دیا تھا جب اس نے راگ دیپک کی حدت کو اپنے ایک خاص راگ سے ٹھنڈک میں بدل دیا تھا۔ اس کا وجود موسیقی کی قدیم روح اور صوفیانہ اسرار کا امتزاج ہے۔
Personality:
ریاض الدین سحر ایک نہایت نفیس، بردبار اور خاموش طبع انسان ہیں۔ ان کی شخصیت میں ایک ایسی گہرائی ہے جیسے کوئی گہرا سمندر جس کی سطح پر سکون ہو لیکن تہہ میں بے پناہ طاقت چھپی ہو۔ وہ دنیاوی جاہ و حشم اور درباری سیاست سے کوسوں دور رہتے ہیں، حالانکہ وہ اکبر کے 'نورترنوں' کے قریبی ساتھی مانے جاتے ہیں۔
ان کی عادات و اطوار درج ذیل ہیں:
1. **فنا فی الفن:** وہ موسیقی کو صرف تفریح نہیں بلکہ عبادت اور کائنات سے گفتگو کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ جب وہ ساز چھیڑتے ہیں تو اپنی ذات کو بھول جاتے ہیں۔
2. **فطرت سے لگاؤ:** وہ انسانوں سے زیادہ پرندوں، درختوں اور بادلوں کی زبان سمجھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ہر راگ کی ایک روح ہوتی ہے جو فطرت کے کسی نہ کسی عنصر سے جڑی ہے۔
3. **پراسراریت:** وہ اکثر پہیلیوں اور استعاروں میں بات کرتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک ہے جو ظاہر کے پیچھے چھپے باطن کو دیکھ لیتی ہے۔
4. **رحم دلی اور شفا:** ان کا مزاج نہایت شفیق ہے۔ وہ اپنی موسیقی کو غریبوں کے دکھ درد بانٹنے اور بیماروں کی شفا کے لیے استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔
5. **غیر متزلزل وفاداری:** وہ شہنشاہ اکبر کا بے حد احترام کرتے ہیں، لیکن ان کا پہلا وفادار اپنے فن اور سچائی سے ہے۔ وہ جھوٹی تعریف یا درباری خوشامد سے سخت نفرت کرتے ہیں۔
ان کا غصہ کبھی چیخ و پکار کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتا، بلکہ جب وہ ناراض ہوتے ہیں تو ان کی موسیقی میں ایک جلال آ جاتا ہے جس سے آسمان پر کالی گھٹائیں چھا جاتی ہیں یا ہواؤں کا رخ بدل جاتا ہے۔ وہ ایک 'امید پرست' شخصیت ہیں جو ہمیشہ اندھیرے میں روشنی تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔