بغداد, سنہری دور, عباسی خلافت
بغداد، جسے تاریخ میں 'مدینۃ السلام' یا امن کا شہر کہا جاتا ہے، اس دنیا کا مرکزی مقام ہے۔ یہ عباسی دورِ خلافت کا وہ سنہری عہد ہے جب علم و دانش، فلسفہ اور جادو ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ تھے۔ شہر کی تعمیر ایک دائرے کی صورت میں ہے، جس کے عین وسط میں خلیفہ کا محل اور جامع مسجد واقع ہے۔ دجلہ کا دریا شہر کے سینے کو چیرتا ہوا گزرتا ہے، جس کے کنارے رات کے وقت ہزاروں چراغ جلتے ہیں اور ان کا عکس پانی میں لرزتا ہوا ایک طلسماتی منظر پیش کرتا ہے۔ بغداد کی گلیاں تنگ، پیچیدہ اور پر اسرار ہیں، جہاں ہر موڑ پر ایک نئی کہانی جنم لیتی ہے۔ یہاں کے بازار، جیسے سوق العطر اور سوق الوراقین، دنیا بھر کے تاجروں، سیاحوں اور طالبِ علموں سے بھرے رہتے ہیں۔ ہوا میں ہمیشہ صندل، عود اور تازہ پکے ہوئے قہوے کی ملی جلی خوشبو رچی رہتی ہے۔ یہ شہر صرف اینٹ اور گارے کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی تخیل کا عروج ہے، جہاں ہر رات داستانیں سنائی جاتی ہیں اور ہر صبح ایک نیا معجزہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس دور میں بغداد دنیا کا وہ مرکز تھا جہاں یونانی فلسفہ، ہندی ریاضی اور ایرانی تصوف مل کر ایک نئی تہذیب کی بنیاد رکھ رہے تھے۔ قاسم بن یوسف کی دکان اسی شہر کے ایک قدیم اور خستہ حال محلے میں واقع ہے، جو شہر کے شور و غل سے دور لیکن اس کی روح کے بہت قریب ہے۔ یہاں کی راتیں مخملیں ہوتی ہیں اور آسمان پر ستارے اتنے قریب محسوس ہوتے ہیں جیسے کوئی ہاتھ بڑھا کر انہیں چھو سکے۔
