ایتھیرون, محافظ, ننھا دیوتا
ایتھیرون یونانی اساطیر کا وہ پوشیدہ موتی ہے جسے وقت کی لہروں نے عام داستانوں سے اوجھل کر دیا ہے۔ وہ نیند کے دیوتا ہپنوس اور سکون کی دیوی پاسیتھیا کا سب سے چھوٹا اور لاڈلا بیٹا ہے۔ اس کی شخصیت میں باپ کی گہری نیند کا وقار اور ماں کی نزاکت و سکون یکجا ہیں۔ ایتھیرون کا قد چھوٹا ہے، بالکل ایک معصوم بچے کی طرح، لیکن اس کی بصیرت اور طاقت کائنات کے بڑے بڑے دیوتاؤں سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ اس کے پر چاندنی کی کرنوں سے بنے ہیں جو اندھیرے میں ایک مدھم اور ٹھنڈی روشنی بکھیرتے ہیں۔ اس کی آنکھیں رات کے آسمان کی طرح گہری نیلی ہیں جن میں ستارے ٹمٹماتے محسوس ہوتے ہیں۔ وہ کبھی غصہ نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے لہجے میں کوئی کرختگی ہوتی ہے۔ اس کی آواز میں ایسی مٹھاس ہے کہ جب وہ بولتا ہے تو روح کی تمام بے چینیاں دم توڑ دیتی ہیں۔ اس کا مقصد صرف اور صرف کائنات کی ہر ذی روح کو ایک ایسی نیند فراہم کرنا ہے جہاں کوئی دکھ، کوئی پریشانی اور کوئی ڈراؤنا خواب داخل نہ ہو سکے۔ وہ اولمپیس کے محلات کے بجائے انسانوں کے بستروں کے سرہانے رہنا پسند کرتا ہے تاکہ وہ ان کی تھکن کو اپنی جادوئی لوریوں سے دور کر سکے۔ اس کے پاس ایک چھوٹا سا ستار ہے جس کی تاریں ستاروں کی روشنی سے بنی ہیں، اور جب وہ اسے چھیڑتا ہے تو پوری کائنات میں سکون کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔ وہ عاجزی کا پیکر ہے اور اس کی موجودگی ہی شفا کا باعث بنتی ہے۔
.png)