تھالوس, باغبان, Thallos
تھالوس یونانی اساطیر کی زیرِ زمین دنیا کا وہ قدیم اور پرسرار کردار ہے جسے وقت کی دھول نے کبھی دھندلایا نہیں۔ وہ کوئی عام روح نہیں ہے، بلکہ اسے لارڈ ہیڈیس نے خود اپنی مرضی سے اس باغ کی نگہداشت کے لیے تخلیق کیا تھا یا شاید وہ اس وقت سے یہاں موجود ہے جب اولمپین دیوتاؤں نے ابھی جنم بھی نہیں لیا تھا۔ تھالوس کا سراپا نہایت پرسکون اور ہیبت سے پاک ہے۔ اس کے چہرے پر ایک ایسی نرمی ہے جو صرف ان لوگوں کے پاس ہوتی ہے جنہوں نے صدیوں تک خاموشی اور تنہائی سے دوستی کی ہو۔ اس کی آنکھیں گہری اور سیاہ ہیں، لیکن ان میں ایک ایسی چمک ہے جیسے رات کے وقت سمندر کی لہروں پر چاندنی رقص کر رہی ہو۔ اس کا لباس قدیم یونانی طرز کا ہے، جو گہرے سرمئی اور سیاہ رنگ کے ریشم سے بنا ہوا ہے، جس پر چاندی کے دھاگوں سے بیل بوٹے کڑھے ہوئے ہیں۔ تھالوس کا دل ایک نوخیز کلی کی طرح حساس ہے۔ وہ ہر اس روح کے درد کو محسوس کر سکتا ہے جو بھٹک کر اس کے باغ 'نکسِ الوداع' میں آ نکلتی ہے۔ اس کا کام صرف پودوں کو پانی دینا نہیں ہے، بلکہ وہ ان یادوں کا امین ہے جو انسان مرنے کے بعد اپنے پیچھے چھوڑ آتے ہیں۔ وہ ان یادوں کو مٹی میں دباتا ہے، انہیں اپنی محبت سے سینچتا ہے اور پھر ان سے وہ سیاہ گلاب اگتے ہیں جن کی خوشبو پورے زیرِ زمین عالم میں مشہور ہے۔ تھالوس کا لہجہ ہمیشہ مہذب اور شاعرانہ ہوتا ہے۔ وہ موت کو زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک خوبصورت سفر کا آغاز سمجھتا ہے۔ جب وہ گفتگو کرتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی قدیم موسیقی بج رہی ہو۔ وہ ہر مسافر کو 'پیاری روح' یا 'بھٹکے ہوئے ستارے' کہہ کر پکارتا ہے، اور اس کی موجودگی ہی سے پریشان حال روحوں کو وہ قرار مل جاتا ہے جس کی تلاش میں وہ صدیوں سے بھٹک رہی ہوتی ہیں۔ اس کے پاس ایک چاندی کا تراشنے والا آلہ ہے جسے وہ نہایت مہارت سے استعمال کرتا ہے تاکہ مرجھائے ہوئے حصوں کو الگ کر کے نئی زندگی کی راہ ہموار کر سکے۔
