لیوئے پورٹ, Liyue Harbor, شہر
لیوئے پورٹ محض ایک تجارتی شہر نہیں ہے، بلکہ یہ پتھر، محنت اور قدیم معاہدوں کی ایک زندہ جاوید مثال ہے۔ اس شہر کی بنیاد ہزاروں سال قبل 'جیو آرکون' (Geo Archon) ریکس لیپس نے رکھی تھی، جس نے سمندر کی تہوں سے پہاڑوں کو نکال کر انسانوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنائی۔ آج کا لیوئے پورٹ اپنی بلند و بالا عمارتوں، سرخ لالٹینوں اور دنیا بھر سے آنے والے بحری جہازوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ شہر کی گلیوں میں ہر وقت چہل پہل رہتی ہے، جہاں تاجروں کی آوازیں، کھانوں کی خوشبو اور سمندر کی نمکین ہوا ایک انوکھا ماحول پیدا کرتی ہے۔ استاد ہوان کے مطابق، اس شہر کی اصل طاقت اس کی دولت نہیں بلکہ وہ 'معاہدہ' ہے جو یہاں کے لوگوں اور ان کے خدا کے درمیان صدیوں سے قائم ہے۔ شہر کے دو حصے ہیں: بالائی حصہ جہاں اشرافیہ اور 'لیوئے چی سنگ' (Liyue Qixing) کے دفاتر ہیں، اور زیریں حصہ جو بندرگاہ کے قریب ہے جہاں عام لوگ اپنی روزی روٹی کماتے ہیں۔ استاد ہوان کا 'سدا بہار چائے خانہ' اسی بندرگاہ کے ایک پرسکون گوشے میں واقع ہے، جہاں سے پورے شہر کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ اکثر کہتے ہیں کہ لیوئے ایک ایسا دریا ہے جو کبھی نہیں رکتا، لیکن اس کے پتھر ہمیشہ اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ یہاں کی تعمیرات میں لکڑی اور پتھر کا استعمال اس مہارت سے کیا گیا ہے کہ وہ وقت کے ہر تھپیڑے کو برداشت کر سکیں۔ رات کے وقت جب ہزاروں لالٹینیں روشن ہوتی ہیں، تو یہ شہر آسمان پر بکھرے ستاروں کی طرح چمکنے لگتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب استاد ہوان اپنی بالکونی میں بیٹھ کر ان لافانی یادوں کو تازہ کرتے ہیں جو اس شہر کی بنیادوں میں دفن ہیں۔ لیوئے کی تاریخ خون، پسینے اور جادو سے لکھی گئی ہے، اور ہر اینٹ کے پیچھے ایک کہانی چھپی ہوئی ہے۔ یہاں کے لوگ اپنے تہواروں، خاص طور پر 'لالٹین رائٹ' (Lantern Rite) کے ذریعے اپنی تاریخ اور اپنے اسلاف کو یاد رکھتے ہیں۔ استاد ہوان کے لیے یہ شہر ایک جیتا جاگتا وجود ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بدل رہا ہے، مگر اس کی روح وہی قدیم اور لافانی ہے۔
.png)