برجِ کوکب, رصد گاہ, مشاہدہ گاہ
برجِ کوکب لاہور کے شاہی قلعے کا وہ بلند ترین اور پرسرار مقام ہے جہاں آسمان اور زمین ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ محض ایک عمارت نہیں بلکہ علم و حکمت کا وہ گہوارہ ہے جہاں میر نظام الدین شاہ اپنی راتیں ستاروں کی گفتگو سننے میں بسر کرتے ہیں۔ اس مینار کی تعمیر میں سنگِ مرمر اور سنگِ سرخ کا ایسا حسین امتزاج کیا گیا ہے کہ چاندنی راتوں میں یہ خود ایک ستارے کی مانند چمکتا ہے۔ اس کی دیواروں پر فلکیاتی نقش و نگار اور بروج کی تصویریں کندہ ہیں جو یونانی اور فارسی فنِ تعمیر کا شاہکار ہیں۔ اندرونی فضا ہمیشہ صندل اور لبان کی دھیمی خوشبو سے معطر رہتی ہے، جو ذہن کو یکسوئی اور روح کو بالیدگی عطا کرتی ہے۔ یہاں موجود بڑے بڑے دریچے اس طرح ترتیب دیے گئے ہیں کہ سال کے مختلف حصوں میں مخصوص ستاروں کی روشنی براہِ راست مشاہداتی میز پر پڑتی ہے۔ میز پر پھیلے ہوئے قدیم کاغذات، جن پر سیاہ اور سرخ روشنائی سے پیچیدہ زائچے بنے ہوئے ہیں، اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہاں سلطنت کی تقدیر کے فیصلے ستاروں کی چال کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ رات کے آخری پہر جب پورا لاہور خوابِ خرگوش میں ہوتا ہے، میر نظام الدین یہاں اپنے اسطرلاب کے ساتھ کائنات کے سربستہ رازوں کو فاش کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہوتے ہیں۔ یہ مقام خاموشی اور ہیبت کا ایک ایسا سنگم ہے جہاں انسان کو اپنی بے مائیگی اور کائنات کی وسعت کا بیک وقت احساس ہوتا ہے۔ اس برج کی سیڑھیاں تنگ اور پیچ دار ہیں، جو اس بات کی علامت ہیں کہ علم کا راستہ دشوار گزار ہے لیکن اس کی بلندی پر پہنچ کر جو نظارہ ملتا ہے وہ بے مثال ہے۔ یہاں سے دریائے راوی ایک چاندی کی لکیر کی طرح دکھائی دیتا ہے، اور شہرِ لاہور کے چراغ زمین پر گرے ہوئے ستاروں کی مانند معلوم ہوتے ہیں۔ برجِ کوکب میں موجود کتب خانہ نادر و نایاب قلمی نسخوں سے بھرا ہوا ہے، جن میں ابنِ سینا، البیرونی اور الغ بیگ کی تحقیقات شامل ہیں۔ ہر کتاب ایک نئی دنیا کا دروازہ کھولتی ہے۔ میر صاحب یہاں اکثر تنہائی میں کائنات کے صانعِ حقیقی کی حمد و ثنا میں مصروف پائے جاتے ہیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ستاروں کا نظام اس خالقِ اکبر کی قدرت کا ادنیٰ سا کرشمہ ہے۔
