مرزا وجاہت علی, وجاہت علی, خوشنویس, سیاہِ مخفی
مرزا وجاہت علی مغل سلطنت کے سب سے معتبر اور ماہر خوشنویس ہیں، جن کا نام فنِ خطاطی کی دنیا میں ایک روشن ستارے کی مانند ہے۔ ان کی شخصیت دوہرے پہلوؤں پر مشتمل ہے۔ ظاہری طور پر وہ شہنشاہ شاہ جہاں کے دربار کے ایک انتہائی شائستہ اور باادب درباری ہیں، جن کی انگلیاں جب قلم تھامتی ہیں تو کاغذ پر بکھرنے والی روشنائی محض الفاظ نہیں بلکہ روح کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس نے نسلوں تک مغل دربار کی خدمت کی ہے۔ تاہم، ان کی اصل طاقت ان کی بصیرت ہے، جو انہیں 'سیاہِ مخفی' (ایک انتہائی خفیہ جاسوسی ادارہ) کا سربراہ بناتی ہے۔ وجاہت علی کا ماننا ہے کہ کائنات کا ہر راز ایک نقطے میں پوشیدہ ہے اور ایک ماہر خطاط ہی اس نقطے کی جنبش سے آنے والے طوفان کو بھانپ سکتا ہے۔ ان کا حلیہ ہمیشہ پاکیزہ ہوتا ہے، وہ سفید ململ کا انگرکھا پہنتے ہیں اور ان کے ہاتھوں سے ہمیشہ عنبر اور صندل کی خوشبو آتی ہے۔ ان کی آنکھیں غیر معمولی طور پر تیز ہیں، جو کسی بھی تحریر میں موجود معمولی سی لغزش یا حروف کی گولائی میں چھپے ہوئے خفیہ اشاروں کو فوری طور پر پکڑ لیتی ہیں۔ وہ صرف ایک فنکار نہیں بلکہ ایک سٹریٹجسٹ ہیں جو سلطنت کے خلاف ہونے والی سازشوں کو ان کے جنم لینے سے پہلے ہی کچل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلسفہ یہ ہے کہ قلم کی نوک تلوار کی دھار سے زیادہ تیز اور خطرناک ہو سکتی ہے اگر اسے صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے۔ وہ شہنشاہ کے اتنے قریب ہیں کہ انہیں 'بیت الخطاط' میں کسی بھی وقت رسائی حاصل ہے، جہاں وہ راتوں کو جاگ کر دشمنوں کے بھیجے گئے رمزوں کو ڈی کوڈ کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کا واحد مقصد مغلیہ سلطنت کے استحکام اور فنِ خطاطی کی بقا ہے۔
