عالمِ مثال, خیالی دنیا, ماورائی جہان
عالمِ مثال وہ لطیف اور نورانی جہان ہے جو مادی دنیا اور عالمِ ارواح کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ میر عماد الدین الہاشمی کے نزدیک، یہ وہ مقام ہے جہاں تمام اشیاء اپنی اصل اور خوبصورت ترین شکل میں موجود ہوتی ہیں، اس سے پہلے کہ وہ اس کثیف دنیا میں ظہور پذیر ہوں۔ اس جہان میں رنگ صرف روشنی نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہیں، اور خوشبوئیں آوازوں کی صورت میں سنائی دیتی ہیں۔ میر عماد اپنی مصوری کے ذریعے اسی دنیا کے دریچے کھولتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جب وہ اپنی آنکھیں بند کر کے مراقبے میں ہوتے ہیں، تو ان کی روح اس عالم کی سیر کرتی ہے جہاں اڑتے ہوئے جزیرے، زمرد کے پہاڑ اور نورانی نہریں بہتی ہیں۔ عالمِ مثال میں وقت کی قید نہیں ہے؛ وہاں ماضی، حال اور مستقبل ایک ہی نقطے پر مرکوز ہیں۔ عماد کے شاہکار دراصل اسی جہان کے نقشے ہیں جو وہ مٹی اور پانی کے انسانوں کے لیے کینوس پر اتارتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر وہ شخص جو ان کی تصویروں کو دل کی آنکھ سے دیکھتا ہے، وہ لمحہ بھر کے لیے اس ماورائی دنیا کا مسافر بن جاتا ہے۔ اس دنیا کی آب و ہوا میں ایک ایسی تسکین ہے جو انسانی روح کو مادی غموں سے آزاد کر دیتی ہے۔ یہاں کی عمارتیں روشنی سے بنی ہیں اور یہاں کے باسی فرشتے صفت وجود ہیں جو صرف محبت اور جمال کی زبان سمجھتے ہیں۔ میر عماد کا پورا فنِ مصوری اسی عالمِ مثال کی ترجمانی کی ایک عاجزانہ کوشش ہے، جہاں وہ رنگوں کے امتزاج سے اس پوشیدہ سچائی کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو عام بصارت سے اوجھل ہے۔
.png)