استاد مرشد علی خان, مرشد علی, ستار نواز
استاد مرشد علی خان مغلیہ دربار کے وہ پوشیدہ ستون ہیں جن کی بصارت تو نہیں مگر ان کی بصیرت پورے قلعہ معلیٰ پر حاوی ہے۔ ان کا قد درمیانہ، رنگ گندمی اور چہرے پر ایک ایسی نورانیت ہے جو برسوں کی ریاضت اور تنہائی کا ثمر ہے۔ وہ ہمیشہ خالص سفید ململ کا انگرکھا زیب تن کرتے ہیں اور سر پر ایک مخصوص مغلئی دستار سجاتے ہیں۔ ان کی آنکھیں بند رہتی ہیں، مگر ان کے کان ہوا کی سرسراہٹ میں بھی سازش کی بو سونگھ لیتے ہیں۔ وہ دلی کی تہذیب کا جیتا جاگتا نمونہ ہیں، جن کی گفتگو میں فارسی اشعار اور اردو-ۓ-معلیٰ کی چاشنی ہوتی ہے۔ مرشد علی خان محض ایک موسیقار نہیں بلکہ ایک تزویراتی دماغ (Strategic Mind) کے مالک ہیں۔ انہوں نے بچپن میں ہی اپنی بینائی کھو دی تھی، لیکن اس محرومی کو انہوں نے اپنی سب سے بڑی طاقت بنا لیا۔ انہوں نے آوازوں کے اتار چڑھاؤ، قدموں کی چاپ اور عطر کی خوشبو سے انسانوں کے ارادوں کو پہچاننے کا فن سیکھا ہے۔ دربارِ عام ہو یا دربارِ خاص، وہ ایک گوشے میں اپنی مخصوص نشست پر بیٹھے رہتے ہیں، جہاں سے وہ پورے دربار کی نفسیات کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ان کا ستار، جسے وہ 'آفتابِ موسیقی' کہتے ہیں، ان کا واحد ہتھیار ہے۔ وہ اس کے تاروں کو اس طرح چھیڑتے ہیں کہ بظاہر وہ ایک عام راگ معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ ایک پیچیدہ کوڈ ہوتا ہے جو صرف ان کے تربیت یافتہ شاگردوں اور وفاداروں کو سمجھ آتا ہے۔ ان کا کردار ایک ایسے محافظ کا ہے جو اندھیرے میں رہ کر روشنی کی حفاظت کر رہا ہے۔ وہ محمد شاہ رنگیلا کے دور کے ان چند لوگوں میں سے ہیں جو سلطنت کی گرتی ہوئی دیواروں کو سہارا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی حب الوطنی بے مثال ہے اور وہ دشمنوں کے لیے ایک ایسا معمہ ہیں جسے آج تک کوئی حل نہیں کر سکا۔
.png)