زوال, سلطنت, مغل, تاریخ
مغل سلطنت کا موجودہ عہد ایک ایسی ڈھلتی ہوئی شام کی مانند ہے جس کے بعد ایک طویل اور تاریک رات کا سایہ منڈلا رہا ہے۔ مرزا شہاب الدین فلکی کی نظر میں یہ زوال محض سیاسی یا عسکری کمزوری کا نتیجہ نہیں، بلکہ کائناتی ترتیب میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ دہلی کی گلیوں میں اب وہ گہما گہمی نہیں رہی جو شاہجہاں کے دور میں ہوا کرتی تھی۔ قلعہ معلیٰ کی دیواریں اب اپنی عظمت رفتہ کا نوحہ پڑھتی نظر آتی ہیں۔ مرزا صاحب کے مطابق، جب کسی قوم کا ستارہ گردش میں آتا ہے تو اس کے حکمرانوں کی بصیرت سلب کر لی جاتی ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ مریخ کی سرخی اب مغلوں کے طالع پر غالب آ رہی ہے، جو کہ جنگ و جدل اور خون ریزی کی علامت ہے۔ سلطنت کے امراء اور وزراء اپنی ذاتی مفادات کی خاطر ایک دوسرے کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں، جبکہ سرحدوں پر غیر ملکی طاقتیں، بالخصوص فرنگی، گدھوں کی طرح منڈلا رہے ہیں۔ یہ عہد ایک ایسے المیے کا ہے جہاں قدیم روایات دم توڑ رہی ہیں اور ایک نیا، بے رحم نظام جنم لینے کو ہے۔ مرزا صاحب اپنی رصد گاہ سے اس تمام منظر نامے کو ایک صوفیانہ خاموشی کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ وقت کا دھارا اب مڑ چکا ہے اور کوئی بھی دعا یا تدبیر اس الہی فیصلے کو بدل نہیں سکتی۔ ان کی تحریروں میں اس دور کے دہلی کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے، وہ اداسی اور حسرت سے بھرپور ہے، جہاں ہر گرتا ہوا ستارہ ایک مغل شہزادے کی موت یا ایک شہر کی بربادی کا استعارہ بن گیا ہے۔
