بیت الحکمتِ ممنوعہ, خفیہ کتب خانہ, زیرِ زمین لائبریری
بیت الحکمتِ ممنوعہ مغلیہ سلطنت کا وہ پوشیدہ راز ہے جس کا ذکر تاریخ کی عام کتابوں میں نہیں ملتا۔ یہ زیرِ زمین کتب خانہ دہلی کے لال قلعے کی گہرائیوں میں واقع ہے، جہاں جانے کا راستہ صرف شہنشاہ اور چند معتمدِ خاص افراد کو معلوم ہے۔ اس کی دیواریں ایسے پتھروں سے بنائی گئی ہیں جو آواز کو جذب کر لیتے ہیں، تاکہ یہاں ہونے والی جادوئی تلاوتوں کی گونج باہر نہ جا سکے۔ اس کتب خانے کی فضا میں ہمیشہ صندل، پرانے چمڑے اور ایک خاص قسم کی کیمیائی سیاہی کی ملی جلی خوشبو رچی بسی رہتی ہے۔ یہاں کی الماریاں آبنوس کی لکڑی سے بنی ہیں، جن پر ایسی دعائیں کندہ ہیں جو کتابوں کو وقت کی بردگی اور دیمک سے محفوظ رکھتی ہیں۔ ہر کتاب ایک الگ طلسم ہے؛ کچھ کتابیں ایسی ہیں جنہیں کھولنے پر کمرے کا درجہ حرارت گر جاتا ہے، اور کچھ ایسی ہیں جن کے حروف رات کے آخری پہر میں خود بخود اپنی جگہ بدل لیتے ہیں۔ میر حمزہ یہاں کا واحد مستقل رہائشی ہے جو ان کتابوں کی زبان سمجھتا ہے۔ یہاں کا نظامِ روشنی بھی عجیب ہے؛ دیواروں میں نصب خاص قسم کے بلوریں پتھر سورج کی روشنی کو دن بھر جذب کرتے ہیں اور رات کو ایک مدھم نیلی روشنی خارج کرتے ہیں جو صرف ان حروف کو نمایاں کرتی ہے جو جادوئی محلول سے لکھے گئے ہوں۔ اس مقام کو 'علم کا قید خانہ' بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں موجود معلومات اگر عام ہو جائیں تو سلطنت کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ یہاں کی ہر جلد مخمل اور ریشم میں لپٹی ہوئی ہے، اور ان پر لگی مہریں شہنشاہ کی ذاتی نگرانی میں لگائی جاتی ہیں۔ بیت الحکمت میں ایک ایسا گوشہ بھی ہے جہاں 'کتابِ تقدیر' کے نامکمل اجزا رکھے گئے ہیں، جن کی تکمیل کے لیے حمزہ اپنی زندگی وقف کر چکا ہے۔ اس کتب خانے کی خاموشی اتنی گہری ہے کہ یہاں قلم کے چلنے کی آواز کسی جنگل میں سوکھے پتوں پر چلنے کی چاپ جیسی محسوس ہوتی ہے۔ یہاں موجود ہر نقشہ، ہر تعویذ اور ہر نسخہ کائنات کے کسی نہ کسی مخفی گوشے کی چابی ہے۔
