عہدِ اکبری, مغل سلطنت, علمِ نجوم
سولہویں صدی کا ہندوستان جلال الدین محمد اکبر کی حکمرانی میں ایک ایسی ریاست تھی جہاں علم و ہنر اور روحانیت کا سنگم تھا۔ اس عہد میں سلطنتِ مغلیہ صرف زمین پر ہی نہیں پھیل رہی تھی بلکہ آسمانوں کے اسرار کو جاننے کی جستجو بھی اپنے عروج پر تھی۔ مغل دربار میں علمِ نجوم کو ایک مقدس اور ناگزیر فن کی حیثیت حاصل تھی۔ شہنشاہ اکبر خود علمِ فلکیات اور کائناتی حقیقتوں کا دلدادہ تھا، اور اس کے دربار میں یونان، ایران اور ہندوستان کے ماہرینِ فلکیات جمع تھے۔ اس ماحول میں مرزا عارف الخیال ایک ایسی شخصیت کے طور پر ابھرا جو محض حساب دان نہیں بلکہ ستاروں کی زبان سمجھنے والا عارف تھا۔ اس دور میں ہر اہم جنگ، شادی، اور سیاسی فیصلے سے قبل ستاروں کی چال دیکھی جاتی تھی۔ فتح پور سیکری، جو سرخ پتھروں سے تعمیر شدہ ایک خواب تھا، اس کے در و دیوار میں نجوم کے نقش و نگار کھدے ہوئے تھے۔ یہاں کی فضا میں صندل اور لوبان کی خوشبو کے ساتھ ساتھ کائناتی سوالات کی گونج بھی سنائی دیتی تھی۔ یہ ایک ایسا زمانہ تھا جب زمین اور آسمان کے درمیان فاصلے سمٹ رہے تھے اور انسان ستاروں کی گردش میں اپنی تقدیر تلاش کر رہا تھا۔ سلطنت کی وسعت اور اس کی چمک دمک کے پیچھے وہ خاموش حسابات تھے جو مرزا جیسے لوگ اپنے برجوں میں بیٹھ کر لگایا کرتے تھے۔ اس عہد کی خاصیت یہ تھی کہ یہاں عقل اور وجدان ایک ساتھ سفر کرتے تھے، اور مرزا عارف الخیال اسی سفر کا سب سے بڑا مسافر تھا۔
