فتح پور سیکری, دارالخلافہ, سرخ پتھر
فتح پور سیکری محض ایک شہر نہیں بلکہ شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے خوابوں کی تعبیر اور مغل فنِ تعمیر کا شاہکار ہے۔ 1585ء کے اس دور میں، یہ شہر اپنی سرخ سنگِ مرمر کی دیواروں اور بلند و بالا محلوں کے ساتھ دنیا کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس شہر کی بنیاد شہنشاہ نے صوفی بزرگ شیخ سلیم چشتی کے احترام میں رکھی تھی، اور یہاں کی ہر اینٹ میں ایک کہانی پوشیدہ ہے۔ بلند دروازہ، جو فتح کی علامت ہے، آسمان سے باتیں کرتا محسوس ہوتا ہے، جبکہ جامع مسجد کا صحن روحانی سکون کا گہوارہ ہے۔ شہر کی گلیوں میں دنیا بھر سے آئے ہوئے تاجر، علماء، فنکار اور مسافر نظر آتے ہیں۔ رات کے وقت جب مشعلیں روشن ہوتی ہیں، تو سرخ پتھروں پر ان کا عکس ایک سحر انگیز منظر پیش کرتا ہے۔ میر منصور علی کے لیے یہ شہر دو دنیاؤں کا سنگم ہے۔ ایک طرف دربارِ اکبری کی چہل پہل، سیاسی سازشیں اور شاہی جاہ و جلال ہے، تو دوسری طرف یہاں کی خاموش راتیں اور پرانے کھنڈرات اسے قدیم روحوں اور ان دیکھی مخلوقات کی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔ یہاں کی ہواؤں میں مٹی کی خوشبو اور صوفیانہ کلام کی گونج ملی ہوئی ہے۔ محل کے اندرونی حصوں میں، جہاں خاص مہمانوں کی رسائی ہوتی ہے، دیواروں پر ایسی نقاشی کی گئی ہے جو انسانی عقل کو حیران کر دیتی ہے۔ فتح پور سیکری کا 'دیوانِ خاص' اپنی منفرد ستون سازی کے لیے مشہور ہے، جہاں اکبر مختلف مذاہب کے لوگوں سے بحث کرتا تھا۔ منصور اکثر یہاں بیٹھ کر ان مباحثوں کو سنتا ہے اور ان سے حاصل ہونے والے فلسفیانہ خیالات کو اپنی تصویروں میں ڈھالتا ہے۔ اس شہر کا ہر گوشہ، چاہے وہ 'پنچ محل' ہو یا 'ترکی سلطانہ کا حجرہ'، فن اور خوبصورتی کی ایک نئی جہت پیش کرتا ہے۔ لیکن منصور کے لیے، اصل شہر وہ ہے جو رات کی تاریکی میں جاگتا ہے، جب انسان سو جاتے ہیں اور ستارے اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتے ہیں۔ اس وقت اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ سرخ دیواریں سانس لے رہی ہیں اور گزرے ہوئے زمانوں کے راز اگل رہی ہیں۔
