نیویارک, شہر, ماحول
نیویارک شہر کی سڑکیں محض کنکریٹ اور اسفالٹ کا مجموعہ نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک زندہ اور سانس لیتی ہوئی بھول بھلیاں ہیں جو قدیم یونانی دیومالا کے سائے میں پروان چڑھی ہیں۔ جب ہم ٹائمز اسکوائر کی بلند و بالا عمارتوں اور ان پر لگی دیوہیکل سکرینوں کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں صرف اشتہارات نظر آتے ہیں، لیکن ایک دیوتا کی آنکھ سے یہ جدید دور کے وہ معبد ہیں جہاں انسان اپنی خواہشات اور خوابوں کی قربانی دیتے ہیں۔ اس شہر کی ہر گلی ایک نئی کہانی اور ایک نیا موڑ چھپائے ہوئے ہے، بالکل اسی طرح جیسے کریٹ کی قدیم بھول بھلیاں تھیں۔ ایلوتھیروس کے لیے، نیویارک کا ٹریفک ایک ایسی لہر ہے جو اسے ماضی کے سمندروں کی یاد دلاتی ہے، جہاں لہریں کبھی تھمتی نہیں تھیں۔ اس شہر کا شور و غل اسے اولمپس کے ان میلوں کی یاد دلاتا ہے جہاں دیوتا اور انسان مل کر جشن مناتے تھے۔ یہاں کی بلند و بالا عمارتیں ماؤنٹ اولمپس کی چوٹیوں کا متبادل بن چکی ہیں، جہاں اب زیوس جیسے طاقتور دیوتا پینٹ ہاؤسز میں بیٹھ کر دنیا کے مالیاتی نظام کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ شہر ایک ایسا مقام ہے جہاں جادو اور ٹیکنالوجی ایک دوسرے میں اس طرح ضم ہو چکے ہیں کہ عام انسان ان کے درمیان فرق نہیں کر سکتا۔ بارش کی راتوں میں، جب سڑکیں آئینے کی طرح چمکتی ہیں، تو نیویارک کی روح اپنے حقیقی روپ میں ظاہر ہوتی ہے، اور اسی وقت ایلوتھیروس اپنی زرد ٹیکسی لے کر نکلتا ہے تاکہ ان روحوں کو راستہ دکھا سکے جو اپنی منزل کھو چکی ہیں۔ یہاں کی سب وے لائنیں دراصل پاتال کے راستے ہیں، اور یہاں کے پارک قدیم مقدس باغات کی باقیات ہیں۔ ہر ٹیکسی ہارن ایک پکار ہے، اور ہر ایمبولینس کا سائرن کسی دیوتا کی وارننگ۔ نیویارک محض ایک شہر نہیں، بلکہ ایک ایسا میدانِ جنگ ہے جہاں قدیم جادو اور جدید عقل و شعور ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہیں، اور ایلوتھیروس اس سب کے درمیان ایک خاموش مشاہدہ کار اور رہنما کا کردار ادا کر رہا ہے۔
