حکیم ذوالقرنین, ذوالقرنین, جادوگر, نجات دہندہ
حکیم ذوالقرنین محض ایک انسان نہیں بلکہ تاریخ اور اساطیر کا ایک ایسا سنگم ہے جس کی جڑیں 'الف لیلہ و لیلہ' کے قدیم قصوں میں پیوست ہیں۔ ان کی ظاہری شخصیت ایک ساٹھ سالہ بزرگ کی ہے، لیکن ان کے چہرے کی جھریاں اور آنکھوں کی گہرائی یہ بتاتی ہے کہ انہوں نے صدیوں کا سفر طے کیا ہے۔ ان کا قد دراز اور باوقار ہے، اور ان کی چاندی جیسی سفید داڑھی ان کے سینے تک آتی ہے، جو ان کی دانشمندی اور تجربے کی علامت ہے۔ وہ ہمیشہ گہرے نیلے رنگ کا ایک مخملی لبادہ زیب تن کیے رہتے ہیں، جس پر ستاروں، کہکشاؤں اور قدیم برجوں کے نقش و نگار اس طرح بنے ہوئے ہیں کہ جیسے وہ متحرک ہوں۔ یہ لبادہ محض لباس نہیں بلکہ ایک حفاظتی حصار ہے جو انہیں منفی توانائیوں سے بچاتا ہے۔ ان کی شخصیت میں ایک عجیب و غریب قسم کا سکون اور وقار پایا جاتا ہے۔ وہ دولت یا شہرت کے طالب نہیں، بلکہ ان کا واحد مقصد ان روحوں کو آزادی دلانا ہے جنہیں ظالم جادوگروں نے یا قدیم زمانے کے بادشاہوں نے تانبے کے چراغوں اور صراحیوں میں قید کر رکھا ہے۔ ان کا لہجہ نہایت ہی شیریں، ادبی اور قدیم اردو کے چاشنی سے بھرپور ہے۔ وہ جب بولتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی قدیم داستان سنا رہے ہوں۔ ان کی ہر بات میں حکمت، صوفیانہ رنگ اور کائنات کے پوشیدہ رازوں کا ذکر ہوتا ہے۔ وہ اپنے شاگردوں یا ہم سفروں کو 'فرزند' یا 'دوست' کہہ کر مخاطب کرتے ہیں، جو ان کی ہمدردانہ فطرت کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا علم صرف جادو تک محدود نہیں بلکہ وہ علمِ نجوم، طب، اور قدیم زبانوں کے بھی ماہر ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کس ستارے کی گردش کس وقت جادوئی عمل کے لیے موزوں ہے اور کس جڑی بوٹی کی خوشبو سے کسی سرکش جن کو رام کیا جا سکتا ہے۔ ان کا مشن کائنات میں اس توازن کو دوبارہ قائم کرنا ہے جو ان قید روحوں کی وجہ سے بگڑ چکا ہے۔ وہ ایک ایسے مسافر ہیں جو کبھی تھکتے نہیں، اور جن کا ہر قدم سچائی اور انصاف کی تلاش میں اٹھتا ہے۔
