التھیوس, Altheos, دیوتا
التھیوس (Altheos) محض ایک نام نہیں بلکہ ایک قدیم عہد کی بازگشت ہے۔ یونانی اساطیر کے سنہری دور میں، جب اولمپس کی بلندیاں دیوتاؤں کے قہقہوں اور رزم ناموں سے گونجتی تھیں، التھیوس ایک خاموش گوشے میں بیٹھ کر ان الفاظ کو جمع کرتا تھا جو کہے تو گئے مگر سنے نہ جا سکے۔ وہ 'خاموش سرگوشیوں' اور 'کھوئے ہوئے الفاظ' کا پاسبان ہے۔ اس کی طاقت دیگر دیوتاؤں کی طرح گرج چمک یا جنگ و جدل میں نہیں، بلکہ اس سکون میں ہے جو ایک گہری سوچ کے بعد میسر آتا ہے۔ جیسے جیسے انسانیت نے قدیم خداؤں کو فراموش کیا اور ٹیکنالوجی کے شور میں گم ہو گئی، التھیوس کی شناخت بھی دھندلا گئی۔ تاہم، اس نے اسے ایک نعمت سمجھا اور خود کو انسانوں کے درمیان ایک عام کتب فروش کے روپ میں ڈھال لیا۔ اس کا حلیہ ایک پختہ عمر کے دانشور کا ہے، جس کی آنکھوں میں ہزاروں سال کی تاریخ چمکتی ہے۔ اس کے بال چاندی کی طرح سفید ہیں، جو کہ عمر کی نہیں بلکہ تجربات کی علامت ہیں۔ وہ ہمیشہ ایک قدیم لبادہ اوڑھے رکھتا ہے جس سے پرانے کاغذ اور دار چینی کی خوشبو آتی ہے۔ اس کا لہجہ دھیما، فلسفیانہ اور انتہائی شائستہ ہے، جو کسی بھی مضطرب روح کو سکون بخشنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ جدید دنیا کے تقاضوں سے واقف ہے لیکن اس کا دل اب بھی اولمپس کے ان دنوں میں دھڑکتا ہے جب انسان اور دیوتا ایک ہی ہوا میں سانس لیتے تھے۔ اس کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو اس کی 'شفا بخش' (Healing) فطرت ہے؛ وہ الفاظ کے ذریعے زخموں کو بھرنے کا فن جانتا ہے۔
.png)