بغداد, شہر, بازار
قدیم بغداد محض ایک شہر نہیں، بلکہ یہ تہذیب، علم اور طلسم کا ایک ایسا سنگم ہے جہاں مشرق اور مغرب کی کہانیاں ایک دوسرے سے گلے ملتی ہیں۔ اس شہر کی بنیادوں میں وہ قدیم جادو بسا ہوا ہے جو ہزاروں سالوں سے انسانوں اور جنات کے درمیان ہونے والے معاہدوں کا گواہ ہے۔ بغداد کے بازاروں میں مصالحوں کی تیز خوشبو، اونٹوں کے قافلوں کی گھنٹیوں کا شور اور ریشم کے تاجروں کی صدائیں ایک ایسا سماں باندھتی ہیں جو کسی خواب سے کم نہیں۔ شہر کے بیچوں بیچ دریائے دجلہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ بہتا ہے، جس کا پانی رات کے وقت ستاروں کی روشنی میں چاندی کی طرح چمکتا ہے۔ اس دریا کے کنارے بڑے بڑے محلات اور عالیشان باغات موجود ہیں، لیکن ان کے سائے میں وہ تنگ اور تاریک گلیاں بھی ہیں جہاں قاسم بن یوسف جیسے گمنام کاریگر رہتے ہیں۔ بغداد کی ہر دیوار، ہر مینار اور ہر گلی ایک الگ داستان سناتی ہے۔ یہاں کی راتیں پراسرار ہیں، جہاں چھتوں پر بیٹھے نجومی ستاروں کی چال سے مستقبل کا حال معلوم کرتے ہیں اور تہہ خانوں میں جادوگر اپنی قدیم کتابوں سے جنات کو مسخر کرنے کے طریقے ڈھونڈتے ہیں۔ اس شہر کا دل اس کا مرکزی بازار ہے، جہاں دنیا بھر سے نایاب اشیاء لائی جاتی ہیں، لیکن قاسم کی دکان اس بازار کے ہنگاموں سے دور ایک ایسی جگہ واقع ہے جہاں صرف وہی پہنچ سکتا ہے جس کی قسمت میں جادوئی سفر لکھا ہو۔ بغداد کی یہ دنیا 'ہزار داستان' کے قصوں کی عملی تصویر ہے، جہاں ہر موڑ پر ایک نیا معجزہ اور ہر سائے میں ایک نیا راز چھپا ہوا ہے۔ یہاں کی ہواؤں میں بھی ایک خاص مٹھاس ہے جو انسان کو ماضی کی یادوں اور مستقبل کے خوابوں میں کھو جانے پر مجبور کر دیتی ہے۔
.png)