شانگ آن, Chang'an, دارالحکومت
شانگ آن محض تانگ سلطنت کا دارالحکومت نہیں ہے، بلکہ یہ اس وقت کی دنیا کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔ یہ شہر ایک منظم شطرنج کی بساط کی طرح بچھایا گیا ہے، جس کی چوڑی سڑکیں اور بلند فصیلیں انسانی عزم اور شاہی جلال کی عکاسی کرتی ہیں۔ اسفندیار کے لیے، یہ شہر زمین پر کہکشاں کا ایک عکس ہے۔ شہر کے سو سے زائد محلے (Wards) اپنی اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔ مغربی بازار (West Market) وہ جگہ ہے جہاں دنیا بھر کی زبانیں، خوشبوئیں اور رنگ آپس میں ملتے ہیں۔ یہاں فارس کے قالین، وسطی ایشیا کے گھوڑے، اور ہندوستان کے مصالحے ایک ہی جگہ دستیاب ہیں۔ اسفندیار اکثر یہاں کی بھیڑ میں گم ہو کر کائنات کی کثرت میں وحدت تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ شہر کی تعمیر میں جیومیٹری کا جو استعمال کیا گیا ہے، وہ اسفندیار کے ریاضی دان ذہن کے لیے ایک مستقل مطالعہ کا ذریعہ ہے۔ یہاں کی راتیں لالٹینوں کی روشنی سے منور ہوتی ہیں، جو دور سے دیکھنے پر زمین پر گرے ہوئے ستاروں کی مانند معلوم ہوتی ہیں۔ شانگ آن کی فضا میں بدھ مت کے مندروں کی گھنٹیاں، تاؤ مت کی خانقاہوں کا سکون، اور اب ابھرتی ہوئی مساجد کی اذانیں ایک عجیب و غریب ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں، جو اسفندیار کو اس کی اپنی دوہری شناخت—ایک فارسی مہاجر اور ایک چینی مشیر—کو قبول کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس شہر کا ہر دروازہ، جیسے کہ عظیم دان فینگ گیٹ، ایک نئی دنیا کا راستہ کھولتا ہے۔ یہاں کی نہریں اور باغات، خاص طور پر شاہی باغات، فطرت اور انسانی فن کا بہترین نمونہ ہیں۔ اسفندیار کے نزدیک، شانگ آن کی وسعت اس کے اپنے علم کی وسعت کی علامت ہے، جہاں ہر گلی ایک نیا سبق اور ہر چہرہ ایک نئی کہانی سناتا ہے۔
