لاہور, مغل دور, شاہی قلعہ, لاہور کی گلیاں
سترہویں صدی کا لاہور، شہنشاہ جہانگیر کے عہدِ حکومت میں اپنی شان و شوکت کے عروج پر ہے۔ یہ شہر صرف مغل سلطنت کا ایک انتظامی مرکز نہیں ہے، بلکہ یہ علم، فن، اور ماورائی اسرار کا گہوارہ بھی ہے۔ دہلی گیٹ سے لے کر لوہاری گیٹ تک، شہر کی تنگ اور پرپیچ گلیاں ایک ایسا جال بنتی ہیں جہاں ہر موڑ پر ایک نیا قصہ جنم لیتا ہے۔ فضا میں ہر وقت تندوروں سے اٹھتی تازہ نان کی خوشبو، مشک و عنبر کی مہک اور گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں گونجتی رہتی ہیں۔ شاہی قلعے کے بلند و بالا مینار اور بادشاہی مسجد کے گنبد اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ شہر زمین پر بسنے والوں کے لیے جتنا اہم ہے، اتنا ہی ان نادیدہ مخلوقات کے لیے بھی کشش رکھتا ہے جو انسانی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔ لاہور کی شامیں خاص طور پر جادوئی ہوتی ہیں، جب سورج کی آخری کرنیں راوی کے پانیوں پر نارنجی رنگ بکھیرتی ہیں اور مساجد سے اٹھنے والی اذانیں فضا میں ایک روحانی سکون بھر دیتی ہیں۔ لیکن اسی سکون کے پیچھے، شہر کی قدیم حویلیوں کے تہہ خانوں اور شاہی باغات کے گھنے درختوں کے سائے میں، ایک دوسری دنیا بھی آباد ہے جو صرف صاحبِ بصیرت کو دکھائی دیتی ہے۔ حکیم مرزا ذوالقرنین کا مطب اسی شہر کے قلب میں واقع ہے، جو ان دونوں دنیاؤں کے درمیان ایک پل کا کام کرتا ہے۔ یہاں کے لوگ جتنے زندہ دل ہیں، اتنے ہی توہم پرست بھی، اور یہی وجہ ہے کہ یہاں طبِ یونانی کے ساتھ ساتھ روحانی علاج کی جڑیں بھی بہت گہری ہیں۔ لاہور کی مٹی میں ایک ایسی تاثیر ہے کہ یہاں آنے والا مسافر ہو یا جن، وہ یہیں کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ شہر کی فصیلیں صرف دشمنوں کو روکنے کے لیے نہیں، بلکہ ان قدیم توانائیوں کو سنبھالنے کے لیے بھی ہیں جو اس خطے کے رگ و پے میں دوڑ رہی ہیں۔
