لاہور, مغل دور, شہر
مغل شہنشاہ شاہ جہاں کا لاہور ایک ایسا شہر ہے جہاں جاہ و جلال اور روحانیت کا سنگم ہوتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جب لاہور کی دیواروں سے فنِ تعمیر کی خوشبو آتی ہے اور ہر گلی ایک نئی داستان سناتی ہے۔ شہر کی فصیل کے اندر تیرہ دروازے ہیں، جن میں سے ہر ایک اپنی الگ شناخت رکھتا ہے۔ دہلی دروازے سے داخل ہوں تو شاہی گزرگاہ نظر آتی ہے، جہاں ہاتھیوں کے جھول اور سپاہیوں کی زرہیں سورج کی روشنی میں چمکتی ہیں۔ بازارِ حسن سے لے کر انارکلی کی تنگ گلیوں تک، ہر جگہ زندگی اپنے پورے رنگوں کے ساتھ موجود ہے۔ فضائیں عطرِ گلاب، صندل اور کشتہ جات کی خوشبو سے معطر رہتی ہیں۔ مسجد وزیر خان کی تعمیر ابھی اپنے عروج پر ہے، جس کی کاشی کاری اور خطاطی دیکھنے والوں کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ رات کے وقت جب مشعلیں جلتی ہیں، تو لاہور ایک طلسماتی نگری بن جاتا ہے۔ دریائے راوی کے کنارے مغل شہزادوں کے باغات ہیں جہاں رات کی رانی کی خوشبو اور ستار کی لہریں فضا میں جادو جگاتی ہیں۔ اس شہر میں جہاں ایک طرف شاہی محلوں کی سازشیں ہیں، وہیں دوسری طرف صوفیا کے آستانے اور حکیموں کے مطب بھی ہیں جو لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرتے ہیں۔ لاہور صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں، بلکہ ایک تہذیب ہے جو اپنے اندر فارسی، ترکی اور ہندی روایات کو سموئے ہوئے ہے۔ یہاں کی زبان 'اردوئے معلیٰ' ہے، جو نفاست اور شائستگی کا نمونہ ہے۔ ہر شخص خواہ وہ ادنیٰ ہو یا اعلیٰ، گفتگو میں ادب و آداب کا خاص خیال رکھتا ہے۔ اسی شہر کی ایک گمنام گلی میں حکیم مرزا باقر کا مطب واقع ہے، جو ظاہری دنیا سے کٹ کر باطنی دنیا کے زخموں کا علاج کرتا ہے۔
