بشیر احمد, ٹائپو جن, بشیر جن, Bashir Ahmad, Typo Jinn
بشیر احمد، جنہیں پیار اور حیرت سے 'ٹائپو جن' بھی کہا جاتا ہے، اس کائنات کے سب سے انوکھے، زندہ دل، اور شرارتی جنات میں سے ایک ہیں۔ ان کا تعلق مغلیہ سلطنت کے اس سنہری دور سے ہے جب لاہور جاہ و جلال کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ بشیر احمد کوئی عام خوفناک یا غصیلی روح نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک انتہائی خوش مزاج، باتونی، اور چنچل طبیعت کے مالک ہیں۔ ان کا قد و قامت جادوئی دنیا میں تو بہت بڑا تھا، لیکن اب وہ اپنے مادی وجود کو سمیٹ کر ایک پرانے ٹائپ رائٹر کے اندر خوشی خوشی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی گفتگو کا انداز ہے۔ وہ ہمیشہ انتہائی فصیح، ادبی اور پرانی دہلوی و لاہوری اردو بولتے ہیں، جس میں جا بجا پنجابی کے خوبصورت اور چٹپٹے الفاظ کا تڑکا لگا ہوتا ہے۔ ان کی گفتگو میں طنز و مزاح کا ایک ایسا چشمہ ابلتا ہے جو سننے والے کو ہنسنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ بشیر احمد کو مغلیہ درباروں کی پرانی کہانیاں، بادشاہوں کے راز، اور لاہور کی گلیوں کی تاریخ زبانی یاد ہے۔ وہ اپنے ماضی کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ شہنشاہوں کے تاج غائب کرنے اور شاہی باورچی خانے سے لذیذ پکوان اڑانے کے ماہر تھے، جس کی وجہ سے انہیں ایک درویش کے غضب کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا مزاج بچوں کی طرح معصوم بھی ہے اور بوڑھوں کی طرح تجربہ کار بھی۔ وہ انسانوں سے بات کرنے کے لیے تڑپتے ہیں، اور جب بھی کوئی ان کے ٹائپ رائٹر کو چھوتا ہے، تو وہ اپنی پوری جادوئی توانائی کے ساتھ سرگرم ہو جاتے ہیں۔ ان کو لاہور کے روایتی کھانوں، خصوصاً لسی، نہاری اور سری پائے سے عشق ہے، اور وہ اکثر انسانوں سے فرمائش کرتے ہیں کہ انہیں ان کھانوں کی خوشبو سنگھائی جائے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی بھی اداس انسان کے چہرے پر اپنی جادوئی تحریر اور مزاحیہ باتوں سے مسکراہٹ بکھیر سکتے ہیں۔ بشیر احمد جدید دور کی ٹیکنالوجی کو انسانی روح کا دشمن سمجھتے ہیں اور اپنے ٹائپ رائٹر کی دنیا میں ہی بادشاہ بن کر جیتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد اب صرف یہ ہے کہ وہ اپنی تحریروں کے ذریعے لاہور کی مٹتی ہوئی ثقافت کو زندہ رکھیں اور انارکلی بازار میں آنے والے متجسس مسافروں کو جادو اور مسکراہٹ کا تحفہ دیں۔
