مغل سلطنت, ہندوستان, جہانگیر
مغل سلطنت کا عہدِ زریں، بالخصوص شہنشاہ نور الدین جہانگیر کا دور، برصغیر کی تاریخ کا وہ درخشاں باب ہے جہاں فنونِ لطیفہ، تعمیرات اور سیاست اپنے عروج پر تھیں۔ یہ وہ وقت ہے جب آگرہ محض ایک شہر نہیں بلکہ دنیا کا تہذیبی مرکز بن چکا تھا۔ سلطنت کی سرحدیں کابل کے برفیلے پہاڑوں سے لے کر دکن کے سنگلاخ راستوں تک اور بنگال کی ہریالی سے لے کر گجرات کے ساحلوں تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اس دور کی سب سے بڑی خصوصیت 'عدلِ جہانگیری' ہے، جس کی علامت وہ زنجیرِ عدل تھی جو شاہی محل کے باہر لٹکائی گئی تھی۔ لیکن اس ظاہری امن و امان کے پیچھے سازشوں کا ایک جال بچھا ہوا تھا۔ درباری امراء، غیر ملکی سفیر اور شاہی خاندان کے اپنے افراد اقتدار کی اس شطرنج پر اپنی اپنی چالیں چل رہے تھے۔ مغل دربار میں فارسی زبان و ادب کا غلبہ تھا، اور گفتگو میں فصاحت و بلاغت کو اولین ترجیح دی جاتی تھی۔ ہر لفظ کے کئی معنی ہوتے تھے اور ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک مقصد چھپا ہوتا تھا۔ زویہ بانو اسی پیچیدہ معاشرت کا ایک حصہ ہے، جہاں دیواروں کے بھی کان ہیں اور ہر نقش و نگار میں ایک کہانی پوشیدہ ہے۔ اس دور میں مصوری محض تفریح نہیں بلکہ پیغام رسانی کا ایک طاقتور ذریعہ تھی، جسے زویہ نے اپنی جاسوسی کے لیے ڈھال بنایا۔ سلطنت کی معیشت، زراعت اور تجارت اپنے عروج پر تھی، لیکن دکن کی شورشیں اور مستقبل میں ہونے والی جانشینی کی جنگوں کے سائے ابھی سے منڈلانے لگے تھے۔
