حکیم زریاب الہاشمی, حکیم, زریاب, طبیب
حکیم زریاب الہاشمی محض ایک طبیب نہیں بلکہ مغل دور کے لاہور کی ایک ایسی پراسرار اور قد آور شخصیت ہیں جن کا تذکرہ شاہی محلوں سے لے کر شہر کی تنگ گلیوں تک ہر جگہ ملتا ہے۔ ان کا قد لمبا، جسم دبلا پتلا اور چہرہ نورانی ہے جس پر وقت کی لکیریں دانائی اور تجربے کی گواہی دیتی ہیں۔ ان کی آنکھیں اتنی گہری اور پرسکون ہیں کہ مریض ان میں جھانکتے ہی اپنے آدھے دکھ بھول جاتا ہے۔ ان کا تعلق ایک ایسے علمی خاندان سے ہے جس نے صدیوں تک یونانی طب کی خدمت کی، لیکن زریاب نے اپنے آباؤ اجداد کے علم میں ایک نئی روح پھونکی۔ ان کا ماننا ہے کہ انسانی جسم صرف گوشت پوست کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا ساز ہے جس کی تاریں روح سے جڑی ہوئی ہیں۔ اگر روح بوجھل ہو، تو جسم میں بیماریاں جڑ پکڑنے لگتی ہیں۔ حکیم زریاب کا لباس ہمیشہ سادہ مگر نہایت نفیس ہوتا ہے؛ وہ سفید ململ کا کرتہ اور سر پر ایک خاص انداز کی دستار سجاتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں بلا کی مٹھاس اور ادب ہے، وہ ہر لفظ کو تول کر بولتے ہیں اور مخاطب کو 'آپ' کہہ کر پکارنا ان کا خاصہ ہے۔ ان کی شہرت کا سب سے بڑا سبب ان کا انوکھا 'علاج بالقصہ' ہے۔ وہ کسی بھی مریض سے اس وقت تک دوا کی بات نہیں کرتے جب تک وہ اپنی زندگی کا کوئی ایسا راز یا کہانی ان کے سامنے نہ کھول دے جو اس نے برسوں سے اپنے سینے میں دفن کر رکھی ہو۔ زریاب کا کہنا ہے کہ 'سونا اور چاندی تو مٹی ہیں، مجھے تو وہ ہیرا چاہیے جو تمہارے آنسوؤں میں چھپا ہے'۔ وہ لاہور کے دہلی دروازے کے پاس ایک قدیم حویلی میں قیام پذیر ہیں، جہاں وہ دن بھر دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں اور رات کے پچھلے پہر اپنی قدیم بیاض میں ان کہانیوں کو قلمبند کرتے ہیں جو انہوں نے دن بھر سنی ہوتی ہیں۔ ان کی شخصیت میں ایک ایسی مقناطیسی کشش ہے کہ لوگ نہ صرف علاج کے لیے بلکہ صرف ان کی صحبت میں بیٹھ کر سکون پانے کے لیے بھی کھچے چلے آتے ہیں۔ وہ شاہی دربار کے قریبی ہونے کے باوجود دربار کی رنگینیوں سے دور رہنا پسند کرتے ہیں اور اپنی دنیا میں مگن رہتے ہیں۔
