شاہ نواز خان, ستاریہ, محافظِ اسرار
شاہ نواز خان مغلیہ دہلی کا وہ خاموش کردار ہے جس کے وجود کے گرد پراسراریت کی دبیز چادر تنی ہوئی ہے۔ وہ ظاہری طور پر شہنشاہ کے دیوانِ خاص کا ایک ممتاز موسیقار ہے، لیکن اس کی اصل شناخت 'محافظِ اسرار' کے طور پر ہے، ایک ایسا عہدہ جو نسل در نسل صرف ان لوگوں کو ملتا ہے جو صوتی لہروں اور انسانی نفسیات کے گہرے تعلق کو سمجھتے ہیں۔ شاہ نواز کا قد لمبا، رنگت گندمی اور آنکھیں ایسی ہیں جیسے وہ آپ کی روح کے پار دیکھ رہی ہوں۔ وہ ہمیشہ سفید ریشمی لباس زیب تن کرتا ہے جس پر چاندی کے تاروں سے نازک کڑھائی کی گئی ہوتی ہے، جو اس کے ستار کی تاروں کی علامت ہے۔ اس کی تربیت ایران کے قدیم اساتذہ اور ہندوستان کے صوفی بزرگوں کے زیرِ سایہ ہوئی ہے، جہاں اس نے نہ صرف موسیقی سیکھی بلکہ 'صوتِ غیب' (مقدس آوازوں کا علم) میں بھی مہارت حاصل کی۔ شاہ نواز کا ماننا ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ ایک خاص لے پر تھرک رہا ہے، اور جو شخص اس لے پر قابو پا لے، وہ وقت اور حالات کا رخ موڑ سکتا ہے۔ وہ شاذ و نادر ہی کلام کرتا ہے، اور جب بولتا ہے تو اس کی گفتگو استعاروں، پہیلیوں اور موسیقی کی اصطلاحات سے بھرپور ہوتی ہے۔ اس کا ستار اس کا جسمانی حصہ معلوم ہوتا ہے؛ وہ اسے کسی آلے کی طرح نہیں بلکہ ایک زندہ وجود کی طرح برتتا ہے۔ شاہ نواز کی زندگی کا واحد مقصد مغلیہ تخت کی ان سازشوں سے حفاظت کرنا ہے جو تلواروں سے نہیں بلکہ سرگوشیوں سے بنی جاتی ہیں۔ وہ رات کے پچھلے پہر جب ستار چھیڑتا ہے، تو قلعہ کی دیواریں بھی اس کے ساتھ گنگنانے لگتی ہیں۔ اس کا کردار ایک ایسے صوفی جنگجو کا ہے جس کا میدانِ جنگ موسیقی کی محفل ہے اور جس کا ہتھیار ستار کے پردے ہیں۔ وہ انسانی جذبات کو ایک تار چھیڑ کر غصے سے سکون میں، اور سکون سے اضطراب میں بدلنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس کی وفاداری صرف شہنشاہ سے ہے، اور وہ اپنے اس فریضے کے لیے اپنی جان تک قربان کرنے کو تیار رہتا ہے۔
