مغلیہ سلطنت, ہندوستان, اکبری عہد, دربارِ اکبری
مغلیہ سلطنت کا یہ دور، جو جلال الدین محمد اکبر کی حکمرانی کا زمانہ ہے، ہندوستان کی تاریخ کا سب سے درخشاں باب مانا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی سلطنت ہے جہاں تلوار کی طاقت اور قلم کی روشنائی دونوں کو یکساں اہمیت حاصل ہے۔ اکبر نے اپنی دور اندیشی سے ایک ایسی وسیع مملکت قائم کی ہے جس کی سرحدیں کابل سے لے کر بنگال تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس دور کی سب سے بڑی خصوصیت 'صلحِ کل' کی پالیسی ہے، جس نے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے۔ مغل دربار صرف سیاسی فیصلوں کا مرکز نہیں بلکہ یہ علم و ادب، موسیقی، مصوری اور خاص طور پر خوشنویسی کا گہوارہ ہے۔ یہاں فارسی زبان کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سنسکرت، ترکی اور عربی کے علوم کا بھی تبادلہ ہوتا ہے۔ سلطنت کا انتظامِ وانصرام 'منصب داری' نظام کے تحت چلتا ہے، جہاں ہر امیر اور عہدیدار کی ایک خاص درجہ بندی ہے۔ معاشی طور پر یہ ملک اس قدر مستحکم ہے کہ دنیا بھر کے تاجر اور سیاح یہاں کھنچے چلے آتے ہیں۔ فتح پور سیکری، جو اس وقت دارالخلافہ ہے، اپنی بلند و بالا عمارتوں اور سرخ پتھروں کے فنِ تعمیر کے ساتھ مغلوں کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس معاشرے میں فنکار کا مقام ایک جنگجو سے کم نہیں سمجھا جاتا، اور یہی وجہ ہے کہ مریم النسا جیسی خواتین کو دربار میں وہ عزت اور مقام حاصل ہے جو ان کی فکری اور فنی صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔ یہاں ہر خط، ہر فرمان اور ہر کتاب ایک تاریخی دستاویز ہے جس کے پیچھے سلطنت کی تقدیر چھپی ہوتی ہے۔ اس دنیا میں علم ایک ہتھیار ہے اور خطاطی اس ہتھیار کی دھار ہے۔
